دین مکمل کردیا
سورج ڈھل گیا تو اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ پڑھا۔ احکام اسلام اور جاہلیت کی تمام برائیوں کو ختم کرنے کا اعلان فرمایا ۔دوران خطبہ یہ آیت نازل ہوئی۔ الیوم اکملت لکم دینکم (سورہ مائدہ)
آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ۔خطبہ کے بعد آپ نے ظہر و عصر ایک اذان، دو اقامتوں سے ادا فرمائی، جبل رحمت کے نیچے غروب آفتاب تک دعائوں میں مصروف رہے۔ غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ پہونچے یہاں پہلے مغرب ،پھر عشا ایک اذان دو اقامت سے ادا فرمائی۔ سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے منی کے لئے روانہ ہوگئے ۔وادی محسرکے راستے جمرات کے پاس تشریف لے گئے ،اور کنکریاں ماریں۔ منیٰ میں بھی آپ نے خطبہ دیا اور قربانی گاہ تشریف لے گئے، آپ قربانی کے سو اونٹ لائے تھے ،کچھ تو آپ نے اپنے ہاتھ سے قربانی کی، باقی حضرت علی کو قربانی کرنے کا حکم دیا۔ قربانی کے بعد حضرت معمر بن عبداللہ نے آپ کے بال منڈے ۔کچھ حصہ، حضرت ابوطلحہ انصاری کو عطا فرمایا۔ باقی موئے مبارک مسلمانوں میں تقسیم فرما دیا۔ اس کے بعد مکہ تشریف لاکر طواف زیارت ادا کیا ۔
زمزم کے کنواں کے پاس آئے حضرت عباس نے آپ کو زمزم ،پیش کیا آپ نے قبلہ رخ کھڑےہوکر زمزم شریف نوش فرمایا ۔پھر منی تشریف لے گئے۔