دسویں ہجری کےحالات وواقعات
حجۃ الوداع
اس سال یعنی ۱۰ھ کو آپ نے آخری حج ادا کیا ۔ہجرت کے بعد یہ آپ کا پہلا حج تھا اور یہ حج آپ کا آخری بھی تھا۔ اسی کو حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ ذی قعدہ میں آپ نے حج کے لئے روانگی کا اعلان فرمایا، تمام عرب آپ کے ساتھ جانے کے لئے امنڈ پڑا ۔آپ نے آخری ذی قعدہ میں جمعرات کے دن غسل فرما کر تہبند باندھا ۔مسجد نبوی میں ظہر کی نماز، ادا کی تمام ازواج مطہرات کو چلنے کا حکم دیا ذوالحلیفہ پہونچ کر رات قیام کیا ۔احرام کے لئے غسل فرمایا۔ دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر احرام باندھا اور بلند آواز سے لبیک پڑھ کر روانہ ہوگئے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار مسلمان حجۃ الوداع میں آپ کے ساتھ تھے۔ ۴؍ ذی الحجہ کو آپ مکہ میں داخل ہوئے۔ فجر کی نماز مقام ذی طویٰ میں ادا فرمائی غسل کرکے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
حجر اسود کابوسہ دیا ۔خانہ کعبہ کا طواف شروع فرمایا۔ شروع کے تین پھیروں میں آپ نے رمل کیا ۔باقی چار پھیروں میں معمول کے مطابق چلے۔ ہر چکر میں جب حجر اسود کے پاس پہونچتے،اپنی چھڑی سے حجر اسود کو اشارہ کرکے چھڑی چوم لیتے تھے۔
طواف سے فارغ ہو کر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی، حجراسود کا استلام فرمایا ،پھر صفا کی جانب روانہ ہوگئے۔ صفا ،مروہ کی سعی فرمائی۔ اٹھویں ذی الحجہ جمعرات کو منی تشریف لے گئے۔ ۵؍ نمازیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر ادا کر کے ۹؍ ویں ذی الحجہ جمعہ کے دن آپ عرفات تشریف لے گئے۔