درود شریف سے خوشیاں لوٹ آئیں
حضرت شیخ الحسن بن حارث لیثی رحمۃ اللہ علیہ ولی کامل اور متبع شریعت تھے اور درود شریف کثرت سے پڑھا کرتے تھے ۔ آپ خود بیان فرماتے ہیں کہ مجھ پر گردش کے دن آگئے فقر و تنگدستی نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا ۔فاقہ تک کی نوبت آگئی اسی پریشانی اور فاقہ کے عالم میں عید آگئی صبح عید تھی لیکن کھانے کے لئے کوئی سامان نہ تھا میں بے حد پریشان تھا بچوںکے لئے نہ کپڑے ہیں نہ دیگر کھانے کی کوئی چیز یں ۔ رات تھو ڑی ہی گزری تھی کہ کسی دروازے پر دستک دی ، میں دروازہ کھولا تو دیکھا کہ کچھ لوگ اپنے ہاتھوں میں قندیلیں لئے کھڑے ہیں میں بہت پریشان ہوگیا کہ نہ معلوم یہ لوگ کیوں دروازے پر کھڑے ہیں ان میں ایک شخص جو اسی علاقے کا رئیس تھا آگے بڑھا اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ میں سورہا تھا ، میری قسمت کا ستارہ چمک اٹھا کیا دیکھتا ہوں کہ شہنشاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور مجھ سے فرمارہے ہیں کہ ابوالحسن اور ان کے بچے بڑی تنگدستی میں دن گذاررہے ہیں ۔ تجھے اللہ تبارک و تعالی نے بہت کچھ نوازا ہے۔جااور ان کی خدمت کرکے ثواب دارین حاصل کر ا س کے بچوں کے لئے کچھ کپڑے بھی لے جا تاکہ وہ اچھی طرح سے عید مناسکے اور خوش ہوجائیں ۔یہ کچھ سامان آپ کی خدمت میں حاضر ہے قبول فرمائیں اور میں درزی بھی ساتھ لایاہوں تاکہ آپ کے بچوں کے کپڑے اسی وقت تیار ہوجائے اور آپ کے بچے خوش ہوکر عید منائیں ۔برادران اسلام درود شریف کی برکت سے عید کی خوشیاں لوٹ آئیں اگر ہم بھی عقیدت و محبت کے ساتھ پیارے حبیب پر درود پڑھیں تو یقیناً دو جہاں کی خوشیاں ہمیں نصیب ہوجائیں گی۔
Post Views: 25