خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا  کا علمی محاسبہ /Khatote Mashahir Banam Imam Ahmad Raza

#khatot mashahir
#خطوط مشاہیر

خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا  کا علمی محاسبہ

از قلم : مفتی محمد ابراہیم آسی

ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی پورنوی کی ایک تالیف ’’ خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا‘‘ نظر سے گزری کتاب دو جلدوں میں ایک ہزار چوبیس صفحات پر مشتمل ہے۔ جس کا اہم ماخذ فتویٰ رضویہ شریف ہے۔ مکتوبات علما و کلام اہل صفا، دبدبہ سکندری اور صحائف رضویہ و عرائض سلامیہ، سے بھی کچھ مواد ماخوذ ہے۔

فتاویٰ رضویہ شریف سے تقریباً چار سو ساٹھ، مکتوبات علما و کلام اہل صفا سے تقریباً ایک سو بیس ، دبدبہ سکندری سے تقریباً تئیس اور صحائف رضویہ وعرائض سلامیہ سے تقریباً بیس حوالے اخذ کئے گئے ہیں اور دیگر ماخذ کے حوالے دس یا پندرہ سے زائد نہیں جو آٹے میں نمک کے مانند ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہو گا کہ پورے مواد کی فراہمی کا محور فتاوی رضویہ ہی ہے۔ دونوں جلدوں میں صرف فتاویٰ رضویہ  سے جو مواد اخذ کئے گئے ہیں یہ تقریباً ساڑھے چھ سو صفحات پر مشتمل ہے، فہرست ، تقدیم، تاثرات اور تقریظات سو سے زائد صفحات پرمبنی ہے اگر فتاوی رضویہ کے مواد ، فہرست اور تاثرات کے مواد کو الگ کر دیا جائے تو کتاب کی ضخامت دو ڈھائی سو صفحات سے زائد نہ ہوگی۔

کتاب کا نام ’’خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا‘‘ہے ڈاکٹر موصوف یہ بتانے کی زحمت فرمائیں کہ خطوط کسے کہتے ہیں؟ ڈاکٹر موصوف ایم ، اے کی وادی سے گزر کر پی۔ایچ ۔ڈی کی منزل پر فائز ہیں۔ موصوف کو معلوم ہونا چاہئے کہ خط کی تعریف کیا ہے ؟ اور خط کے اجزاء ترکیبی کیا ہیں ؟ ایم اے اردو کی نصابی کتاب میں آٹھواں مضمون غیر افسانوی ادب ہے، خط کا شمار بھی غیر افسانوی ادب میںہوتا ہے خط کی تعریف اس میں یوں تحریر ہے ’’ خط عام طور سے مکتوب نگار اور مکتوب الیہ کے بیچ تبادلہ خیال کا ذریعہ ہے‘‘ خطوط کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ذاتی خطوط، سرکاری خطوط، دفتری خطوط، تجارتی خطوط، اخباری خطوط وغیرہ خطوط میں کئی اجزا ہوتے ہیں، مثلاً مکتوب نویس کا نام اور پتہ ، تاریخ تحریر، مقدمہ، القاب، نفس مضمون، خاتمہ، مکتوب نویس کی دستخط، اور مکتوب الیہ کا نام اور پتہ۔

اب ڈاکٹر موصوف ہی جواب دیں جو خطوط انہوںنے فتاویٰ رضویہ سے اخذ کئے ہیں وہ خطوط کس قسم کے خطوط میں شمارہوںگے ؟ ان خطوط کے اجزاء ترکیبی کیا ہیں ؟

ڈاکٹر موصوف یہ بتانے کی زحمت فرمائیں کہ خط کسے کہا جاتا ہے ؟ استفتاء کی تعریف کیا ہے ؟ استفتا اور خط میں کیا فرق ہے ؟ کیا دینی سوالات کا نام خط ہے ؟ اگر دینی سوالات کا نام خط ہے تو پھر فتاویٰ رضویہ کے تمام استفتاء خط کیوں نہیں ؟ اگر ڈاکٹر موصوف یہ کہتے ہیں کہ جس میں اعلی حضرت کو مخاطب کر کے نام کے  ساتھ تحریر کیا گیا ہے وہ خط ہے۔ تو میں عرض کرنا چاہوں گا کہ موصوف کی تالیف میں ایسے کافی استفتا موجود ہیں جو اعلی حضرت کو مخاطب کئے بغیر ار سال کیا گیا ہے کتاب ’’خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا‘‘ کے جلد دوم صفحہ نمبر ۴۳۲ پر یہ استفتا ملا حظہ فرمائیں :

’’شرعاً قبل متارکہ و تفریق بین المحا رم غیر مدخولہ سے کسی دوسرے کا نکاح درست ہے یا نہیں؟ اور قاضی شرعاً کون ہے؟ الخ (بحوالہ فتاویٰ رضویہ)

اب ڈاکٹر موصوف فیصلہ کریں کہ مذکورہ تحریر خط ہے یا استفتا ؟ اس تحریر میں اعلی حضرت کو مخاطب بھی نہیں کیا گیا ہے۔ اگر ڈاکٹر موصوف یہ کہتے ہیں کہ یہ اعلی حضرت کے نام سے آیاتھا اس لئے یہ خط ہے تو میں گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ فتاوی رضویہ کے تمام استفتا اعلی حضرت کے نام سے ہی آیا تھا۔

ڈاکٹر موصوف نے اپنی تالیف میں ایک ایسے استفتاء کو بھی خط میں شمار کیا ہے جو مطلق مفتیان عظام کو لکھا گیا ہے ’’خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا‘‘ کے جلددوم صفحہ نمبر ۴۹۹ پر وہ استفتا ملا حظہ فرمائیں:

ہادی دین پناہ شریعت، علماء عظام مفتیان کرام سلمکم اللہ تعالیٰ الخ(بحوالہ فتاوی رضویہ) اس استفتا میں صرف اعلی حضرت ہی تنہا مخاطب نہیں بلکہ دوسرے تمام مفتیان کرام اور علماء عظام بھی مخا طب ہیں۔ پھر بھی ڈاکٹر صاحب نے استفتانہ مان کر خط میں شمار کیاہے۔

ڈاکٹر موصوف کے خیال خام کے مطابق اگر یہ خط ہے تو وہ بے شمار استفتاء، جو فتاویٰ رضویہ میںاس طرز پر تحریر ہے پھر وہ خط کیوں نہیں؟

ایک مستفتی نے اعلیٰ حضرت کو لاہور پاکستان سے ایک استفتا ارسال کیا اور اس کے نیچے اپنے نام سے قبل ’’المستفتی بھی لکھ دیا اس کے باوجود ڈاکٹر موصوف اس استفتاء کو خط میں شمار کر رہے ہیں جلد اول صفحہ نمبر ۳۹۴ نمبر پر ملاحظہ فرمائیں لگتا ہے موصوف نے استفتا کو خط تسلیم کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اگر مستفتی کا معنی حاشیہ ذہن میں محفوظ نہیں تھا تو لغت گردانی کر لیتے تو واضح ہو جاتا کے مستفتی کا معنی فتویٰ طلب کرنے والا ہے پھر استفتاء کو خط میں شمار کرنے کی غلطی سرزد نہ ہوتی ۔ موصوف مکتوب نگاری پر پی ایچ ڈی کئے ہیں۔ مکتوب نگاری اور استفتاء میں کیا فرق ہوتا ہے اس سے بھی واقف نہیں۔ اگر واقف ہوتے تو یہ نادانی کا صدور ان سے نہ ہوتا۔

خط کسے کہتے ہیں ؟ استفتاء کی تعریف کیا ہے ؟ اور فتویٰ کسے کہا جاتا ہے ؟ خط کی تعریف جیساکہ ذکر ہوا ’’ خط عام طور سے مکتوب نگار اور مکتوب الیہ کے بیچ تبادلہ خیال کا ذریعہ ہے ’’ استفتاء دینی مسائل پوچھنے اور فتویٰ طلب کرنے کا نام ہے ’’ فتویٰ اسکی تعریف شارح بخاری مفتی شریف الحق علیہ الرحمۃ والرضوان یوں لکھتے ہیں۔ فتویٰ وہ حکم شرعی ہے جو کوئی ماہر شریعت واقع کے مطابق بیان کرے ’’ اب ڈاکٹر موصوف عدل وانصاف کا چشمہ لگا کر ان تعریفات کا مطالعہ کریں اور اسکی روشنی میں فیصلہ کریں کہ انہوں نے جو مواد فتاویٰ رضویہ شریف سے لیا ہے وہ خط ہے یا استفتا ؟ اعلی حضرت امام عشق و محبت نے جو جواب لکھا ہے وہ جوابِ خط ہے یا فتویٰ ؟ کیونکہ استفتا کے جواب میں فتویٰ دیا جائے گا اور خط کے جواب میں جواب ِخط لکھا جائے گا۔

ڈاکٹر موصوف تبرد مزاجی سے سوچیں اور یہ بتانے کی زحمت فرمائیں کہ امام عشق و محبت نے قرآن واحادیث اور اقوال ائمہ کی روشنی میں ادق سے ادق مسائل حل کر کے امت مسلمہ کو جواب عطا فرمایا ہے اسکو جواب خط کہا جائے گا یا فتویٰ؟ ڈاکٹر موصوف یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ خط تبادلہ خیال کا نام ہے اس میں اپنی رائے کا اظہار اور مافی الضمیرکو بیان کیا جاتا ہے لیکن فتویٰ کا مقام وہ نہیں ہے۔ فتویٰ میں اپنی رائے پیش نہیں کی جاتی بلکہ قرآن و احادیث کا حکم بیان کر دیا جاتا ہے اس سے واضح ہو گیا کہ جو مقام فتویٰ کا ہے وہ خط کا نہیں ہو سکتا ۔ اب ارباب علم و دانش خود فیصلہ کریں فتاویٰ رضویہ کو خطوط کا مجموعہ بناکر ڈاکٹر موصوف اس کا مرتبہ بڑھا رہے ہیں کہ گھٹا رہے ہیں ؟ شاید ڈاکٹر موصوف مخالفین رضا کے اکسانے پر یہ کام انجام دیئے ہوں تاکہ فتاویٰ رضویہ کو خطوط کا مجموعہ قرار دے کر اس کے مقام کو گھٹا دیا جائے ہو سکتا ہے میرا گمان غلط بھی ہو۔

امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان نے فتاویٰ رضویہ میں اہم اہم مسائل کو قرآن واحادیث کی روشنی میں حل فرما یا ہے اور تاکید کیلئے ایسے دلائل و براہین پیش کئے ہیں کہ وقت کے دانشور اور فقیہ انگشت بدنداں ہیں اور بر جستہ کہے ہیں اگر اس وقت امام اعظم ابو حنیفہ ہو تے تو آپکی پیشانی کو بوسہ دیتے۔ ایسے عظیم الشان استفتا اور فتاویٰ کو ڈاکٹر موصوف ایڑی چوٹی کا زور لگا کر خطوط اور جواب خطوط بنانے کے درپے ہیں۔ ایک جگہ ڈاکٹر موصوف نے ترکہ کے استفتا ء کو بھی خط میں شمار کیا ہے ۔ ’’خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا‘‘ جلد دوم صفحہ نمبر ۲۱۱ پر ملاحظہ فرمائیں:

’’ایک شخص نامی قمرالدین عرصہ ۴۰؍ یوم سے فوت ہو گیا ہے اب ذیل ورثا موجود ہیں اس کا ترکہ کس طرح تقسیم ہونا چاہئے ؟ الخ (بحوالہ فتاویٰ رضویہ)

اب اندازہ لگائیں کہ موصوف اس استفتا ء کو بھی خط میں شمار کر رہے ہیں اگر یہ خط ہے تو پھر استفتا کس چڑیا کا نام ہے ؟ کوئی عالم یا دانشو ر نہیں بلکہ ایک عام پڑھا لکھا آدمی  مذکورہ بالا عبارت کو دیکھتے ہی بادی النظر کہے گا کہ یہ استفتا ہے خط نہیں لیکن ڈاکٹر موصوف کمر کس کر استفتا ء کو خط بنانے کے میدان میں کود پڑے اور خط میں شمار کر دیا۔

کیاا مام عشق ومحبت کی زندگی اور ان کی تحریر و تصنیف پر کام کرنے کا یہی انداز ہے کہ ان کے مجموعہ فتاویٰ کو خط یا جواب خط کا مجموعہ بنا دیا جائے ؟ ڈاکٹر موصوف یا ان کی طرح کوئی قلم کار اس میدان میں کو د پڑے اور ان تما م فتاویٰ کو اکٹھا کرے جو اعلیٰ حضرت نے استفتا ء کے جواب میں لکھا ہے اور اس کتاب کا نام ’’ امام احمد رضا کے خطوط مشاہیر کے نام ’’ رکھ دیا جائے تو پتہ چلا کہ فتاویٰ رضویہ آدھی کتاب خطوط میں اور آدھی کتاب جواب خطوط میں مکمل ہو گئی تو پھر فتاویٰ کی کتاب کہاں رہ گئی ایسی کتاب ترتیب دے کر اغیار اوردشمنان رضا کو ڈاکٹر موصوف انگشت نمائی کا موقع فراہم کئے ہیں ان کے حوالے سے کہہ سکتے ہیں کہ فتاویٰ رضویہ فتاویٰ کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ خطوط اور جواب خطوط کا مجموعہ ہے۔

جب دشمنان رضا یا عاشقان رضا دینی مسائل میں الجھ جاتے ہیں اور اسکو حل نہیں کر پاتے توعاشقانِ رضا کھلی لائبریری میں اور دشمنانِ رضا بند کمرے میں فتاویٰ رضویہ کی طرف رجوع ہوتے ہیں دونوں کو تسلی اور تشفی بخش جواب ملتا ہے۔ ایسے عظیم الشان فتاویٰ کے مجموعہ کو ڈاکٹر موصوف خطوط کا مجموعہ قرار دے رہے ہیں خود فیصلہ کریں کہ یہ ان کی خطوط دانی ہے یا نادانی ؟

کتاب ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے پوری کتاب مطالعہ کرنے کے بعد قارئین کو کیا فائدہ حاصل ہوگا صرف سوالات کے سمندر میں پیاس کی شدت تو محسوس کر سکتے ہیں لیکن جوابات کی شکل میں انہیںشبنم کا قطرہ بھی میسرنہ ہوگا اگر ساتھ میں جوابات بھی درج کر دیئے جاتے تو قارئین کو پورا پورا فائدہ حاصل ہوتا اور امام احمد رضا کے قلم کی اس روشنائی کا خوب خوب اندازہ ہو جاتا جو بریلی کی چٹائی پر دبستان عشق رسول میں بیٹھ کر فقہی مسائل کو حل کرکے ایک گل سرسبد فتاویٰ رضویہ کی شکل میں قیامت تک کے مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے۔ کتاب کے سوالات کے مطالعہ سے وقت تو یقینا ضائع ہوگا لیکن تہی دامنی کے سوا کچھ  ہاتھ نہ آئے گا۔

ڈاکٹر موصوف نے اپنی تالیف کا م نام ’’ خطوط مشاہیر بنام امام احمد رضا‘‘ رکھا ہے ۔ تو کچھ گفتگو لفظ ’’مشاہیر‘‘ پر بھی ہو جائے ۔ مشاہیر یہ مشہور کی جمع ہے ڈاکٹر موصوف نے ایسے ایسے لوگوں کو مشاہیر میں شمار کیا ہے جو گم نامی کی وادی ہی میں رہ کر اس دار فانی سے کوچ کر گئے ایسے مجہول اشخاص کو بھی مشاہیر میں شمار کر دیا گیاہے شاید ڈاکٹر موصوف کی نگاہ میں مشہور اور مجہول دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ مشاہیر تو وہ ہیں کہ نام لیتے ہی ان کی ذات ان کی شہرت ان کے کا رنامے سامنے آجائے مثلاً امام اعظم ،غوث اعظم ،خواجہ غریب نواز، اعلیٰ حضرت مفتی اعظم ،مجد دالف ثانی، محدث دہلوی، مخدوم بہار صدرا لشریعہ، صدر الافاضل، ملک العلما، مجاہد ملت، حافظ ملت اور اس طرح کی دوسری شخصیتیں مشاہیر ہیں اگر ہر عام و خاص مشاہیر ہی ہو جائے تو مشاہیر کا مقام و رتبہ کیا باقی رہے گا۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں ’’ ہر شب اگر شب قدر بودے شب قدر بے قدر بودے ‘‘ اس تالیف میں مجہول اشخاص کی تعداد مشہور اشخاص سے کافی زیادہ ہیں اس کے باوجود ڈاکٹر موصوف اسکو ’’ خطوط مشاہیر‘‘ ہی قرار دے رہے ہیں۔ مجہول کو مشہور یا مشہور کو مجہول لکھنا یہ جھوٹ ہے یا نہیں ؟ ڈاکٹر موصوف عدالت کی کرسی پر بیٹھ کرخود فیصلہ کریں۔

اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گی

یہ اشارات و کنایات کا دور نہیں ہے

افسوس صدا فسوس ڈاکٹر موصوف کی مشاہیر فہمی پر ،موصوف پوسٹ ماسٹر، اسٹیشن ماسٹر اور زری والے کو مشاہیر میں شمار کرتے ہیں چند جھلکیاںملاحظہ فرمائیں :

جلد اول صفحہ نمبر ۴۲۳ پر صدرالدین زری والے۔ جلد اول صفحہ ۴۱۸ پر سید شاہد حسین انسپکٹر، جلد اول صفحہ ۳۹۶ پر محمدسلیم خان کتب فروش، جلد دوم صفحہ ۲۳۵ پر عبد العزیز ہیڈکانسٹبل، جلد دوم صفحہ ۲۳۶ پر عنایت اللہ پوسٹ ماسٹر، جلد دوم صفحہ ۲۶۲ پر سید اعجاز احمد اسٹیشن ماسٹر، جلد دوم صفحہ ۲۵۳ پرمحمد عبد اللہ دکاندار اگر پوسٹ ماسٹر، اسٹیشن ماسٹر اور کا نسٹبل مشاہیر ہیں تو پھر ملک العلما، شیر بیشہ اہل سنت ، برہان ملت، صدررالشریعہ، تاج العلما، نوری میاں کیا ہیں یہ ڈاکٹر موصوف ہی جواب دیں گے۔

وجہ شادمانی بھی ہے باعث تباہی بھی

کم نہیں قیامت سے تیری تنگ نگاہی بھی

ڈاکٹر موصوف کی مشاہیر فہمی پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ انہوں نے ایک ایسے شخص کو مشاہیر میں شمار کیاہے جس کا نام ہندو اور مسلم نام کے در میان مشترک ہے جلد دوم صفحہ ۴۴۵ پر ایک شخص کا استفتا ہے جس کام نام ہے کا لی داس نصیر الدین موصوف کی نگاہ میں یہ کالی داس نصیر الدین بھی مشاہیر میں سے ہے۔

تماشہ نہیں بلکہ طرفہ تماشہ ہے کہ اجتماعی مسلمانوں کے استفتا کو بھی مشاہیر کے خطوط میں شمار کر رہے ہیں جلد دوم اور صفحہ ۴۹۹ پر ملاحظہ فرمائیں۔ یہ استفتا مسلمانان سانگورکی طرف سے ہے۔

ڈاکٹر موصوف کے سر پر استفتا ء کو خط بنانے کا ایسا بھوت سوار ہوا کہ بغیر نام اور پتہ کے استفتاء کو بھی خطوط مشاہیر میں شمار کر رہے ہیں۔ ایسے استفتا جلد دوم صفحہ ۴۹۴ پر ملا حظہ فرمائیں۔مجہول اشخاص، عام مسلمان، اور بغیر نام وپتہ کے استفتا کو اگر خطوط مشاہیربنا دیا جائے تو یہ ستم نہیں بلکہ بالائے ستم ہوگا۔

ارے صیاد ہمیں گل ہیں ہمیں بلبل ہیں

تونے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں

’’خطوط مشاہیربنام امام احمد رضا‘‘ میں ایسے علما کرام، پر فیسران،منجھے ہوئے  قلم کاران اور علم و فن کی کوہ پیکر شخصیتوں نے تقریظات، تاثرات، لکھا ہے جس کے سامنے مجھ جیسا بونا زبان کھولنے کی کیا جرأت کر سکتا ہے۔ سبھوں نے تعریف و توصیف کے پل باندھے ہیں ہے کسی نے بھی حقائق کی طرف نشاندہی نہیں کی۔ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تاثرات کتاب کے صفحات کو دیکھ کر نہیں بلکہ صاحب کتاب کے چہرے کو دیکھ کر لکھے گئے ہیں اگر کتاب کے صفحات کو مطالعہ کرتے تواندازہ ہو جاتا کہ ہزار صفحات مطالعہ کرنے کے بعد قارئین کو کیا حاصل ہوگا، کسی نے بھی صاحب کتاب کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش نہیں کی۔

اب فقط چہروں پہ رہتی ہے زمانے کی نظر

اب کسی شخص کے جوہر نہیں دیکھے جاتے

ایک مختصر ملاقات کے دوران میں نے ان امور کی طرف نشاندہی کی لیکن ڈاکٹر موصوف نے ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ یکسر نظر انداز کر دیا جس سے اندازہ ہو گیا کہ موصوف کو کچھ کہنا کالے کمبل میں رنگ چڑھانا ہے۔

اور ہاں مجھے یاد آیا کہ تقریظ اور تقدیم کے بارے ڈاکٹر موصوف کیا کہتے ہیں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ایک عرب ناقد نے لکھا ہے ، مقدمہ نگاری یا تقریظ نویسی مصنف اور قارئین کے درمیان دلالی کرنا ہے ‘‘ اس قول کی روشنی میں ڈاکٹر موصوف مزید لکھتے ہیں ’’ میں اس دلالی کے بد نما داغ سے اپنا دامن داغ دارکرنا نہیں چاہتا ہوں ’’ موصوف کی ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ جملہ انہوں نے اپنی تصنیف یا تالیف میں نہیں بلکہ ایک کتاب کی تقدیم لکھنے کے درمیان بیان کیا ہے ان کی یہ تقدیم کتاب ’’ درود و سلام کی شرعی حیثیت و فضیلت ’’کے صفحہ نمبر ۷ ؍ پر موجود ہے۔

ڈاکٹر موصوف کے قول سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔ وہ تقریظ و تقدیم لکھ کر اپنا دامن داغدار کرنا نہیں چاہتے پھر تقدیم بھی لکھتے ہیں گویا۔

ہیں ڈاکٹر موصوف کچھ اور نظر آتے ہیں کچھ   ع

بقول ڈاکٹر موصوف کے علم وفن کی وہ کوہ پیکر شخصیتیں جنہوں نے عرق جبیںبہاکر ’’ خطوط شاہیر بنام امام احمد رضا  ’’ میں تقریظات اور تاثرات لکھی ہیں گویا وہ قارئین اور ڈاکٹر موصوف کے درمیان دلالی کرکے اپنے دامن کو داغدارکر لئے ہیں اور میں سمجھتا ہوںکہ یہ دلالی کرانے اور دامن داغدار کرانے میں ڈاکٹر موصوف کاہی ہاتھ ہے۔ مجھے امید ہے کہ ڈاکٹر موصوف تبرد مزاجی سے سوچیں گے اور اپنے ذہن و فکر کو وسعت دیکران تمام سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں گے تاکہ قارئین اور عاشقان رضا کے دل میں جوتشویش اور خلجان ہے وہ دور ہو جائے۔ اگر ڈاکٹر موصوف دلائل و براہین سے تسلی و تشفی بخش اور حق نما جواب دیتے ہیں تو مجھے قبول کرنے میں کوئی عارنہ ہوگا۔

اثر کرے نہ کرے سن لے تو میری فریاد

نہیںہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

٭٭٭