خدا کی قسم
کفار مکہ کہا کرتے تھے اے محمد آپ رسول نہیں ہیں ، آپ اللہ کے نبی نہیں ہیں، آپ اللہ کے پیغمبر نہیں ہیں ، آپ اللہ کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں آپ اللہ کے مرسلین میں سے نہیں ہیں ۔ حضور علیہ السلام کے قلب اطہر میں رنج پہونچا ۔ کیا میں اللہ کا حبیب نہیں ہوں ، کیا میں اللہ کا نبی نہیں ہوں ، کیا میں اللہ کا پیغمبر نہیں ہوں ، کیا میں اللہ کا حبیب نہیں ہوں ، کیا میں االلہ کا محبوب نہیں ہوں ۔ جواب میں خالق کائنات ارشاد فرماتا ہے {یٰسن} اے میرے محبوب {والقرآن الحکیم }۔ قسم قرآن کی{ انّک لمن المرسلین }بیشک تو رسول ہے اے میرے حبیب میں قرآن کی قسم کھا کر کہتا ہوں بیشک تو رسول ہے تجھے کوئی رسول مانے یا نہ مانے میں مانتا ہوں ، تجھے کوئی نبی مانے یا نہ مانے میں تجھے بنی مانتا ہوں تجھے کوئی پیغمبر مانے یا نہ مانے میں تجھے پیغمبر مانتا ہوں ، تجھے کوئی حبیب مانے یا نہ مانے میں تجھے حبیب مانتا ہوں ۔ اے میرے پیارے تجھے دنیا والے محبوب مانے یا نہ مانے میں تجھے محبوب مانتا ہوں ۔ {یٰسن والقرآن الحکیم انّک لمن المرسلین }، اے میرے محبوب قرآن کی قسم بے شک تو رسول ہے ۔ قسم کھانے والا کون ہے ؟ خالق کائنات ہے ، کس چیز کی قسم کھائی جارہی ہے قرآن کی قسم کھائی جارہی ہے خالق کائنات فرماتا ہے اے میرے محبوب آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں میں قرآن کی قسم کھاکر کہتا ہوں بیشک تو رسول ہے ۔
Post Views: 27