حکایت
حضرت شیخ نساج رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ایک بہت بڑے عالم با عمل، متقی اور ولی کامل تھے۔ نوجوان لڑکوں کو دینی تعلیم دیتے ، ایک دن کچھ نوجوان دیر سے مدرسہ پہونچے۔ آپ نے پو چھا تم لوگ اتنی دیر کرکے کیوں آئے ان لوگوں نے جواب دیا حضرت آج اتوار کا دن ہے عیسائی سبھی جمع ہو کر گرجا گھر میں عبادت کرتے ہیں ۔ ہم لوگ وہیں دیکھنے گئے تھے۔ آپ نے پوچھا تم وہاں سے کون سا کا م انجام دے کر آئے ہو وہ نوجوان لڑکے کہنے لگے حضرت ہم مسلمان ہیں گرجا گھر میں ہمارا کیا کام ہو سکتا ہے۔آپ نے فرمایا انشاء اللہ اگلے ہفتہ ہمارے ساتھ چلنا پھر دیکھنا کہ گرجا گھر میں مسلمانوں کا کیا کام ہو سکتا ہے ،سب لڑکے تعجب کرنے لگے اور اتوار کا انتظار کرنے لگے ، جب اتوار کا دن آیا ۔ حضرت شیخ نساج رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وضو کرکے لباس پہن کر سبھوں کو ساتھ لے کر گرجا گھر پہنچے ، دیکھا کہ شہرکے تمام عیسائی اپنے طور پر ہاتھ باندھے دعاؤ ں میں مشغول ہیں ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بڑی مورتی سامنے رکھی ہوئی ہے ۔حضرت شیخ نساج رحمۃاللہ علیہ اندر داخل ہوئے اور اس مورتی کے سامنے کھڑے ہو کر سورہ مائدہ کی اس آیت کو سوالیہ انداز میں پڑھنے لگے ۔{ یٰعِسیٰ ابْنِ مَرْیَمَ ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنِاسِ اَتَّخِزُونِی وَ اُمّتّی اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ} ’’ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا ‘‘ ۔
یہ آیت کریمہ سنتے ہی پتھر کی مورتی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گیا اورپھر مورتی زمین پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور ہر ٹکڑا بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھنے لگا اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ واشھد ان محمدعبدہ و رسو لہ ۔ یہ حال دیکھ کر سارے عیسائی گھبرا گئے حضرت شیخ نساج رحمۃاللہ علیہ کے قدموں میں گر گئے اور کلمہ طیبہ پڑھ کر سبھی اسلام میں داخل ہو گئے ۔ اس گرجا گھر کی جگہ کو صاف کرکے مسجد بنادی گئی اور اذان دے کر ظہر کی نماز ادا کی ۔
حضرت نے اپنے شاگردوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ دیکھا تم نے کہ گرجا گھر میں مسلمانوں کا کیا کام ہوتا ہے ۔ یہ سن کر شاگردوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے او ر حضرت کی دست بوسی کرنے لگے ۔ بادران اسلام دیکھا آپ نے حضرت نساج نے آن واحد میں ایک آیت کریمہ کے ذریعہ ہزاروں عیسائیوں کو مسلمان بنادیا ۔ ولی کی نگاہ میں وہ تا ثیر ہے کہ آن واحد میں تقدیروں کو بدل دیتی ہے ، ولی کی نگاہ چور کو ولی بنادیتی ہے ، ولی کی نگا ہ فاحشہ کو عابدہ بنادیتی ہے ، ولی کی نگا ہ بت پرست کو خدا پرست بنادیتی ہے ، ولی کی نگاہ کفر وشرک کو ایماںسے بدل دیتی ہے ، ولی کی نگاہ ڈوبتی کشتی کو کنارے لگادیتی ہے ، ولی کی نگاہ مُردوں میں جان ڈالدیتی ہے ، ولی کی نگاہ لوح محفوظ تک پہونچتی ہے۔
نگاہِ ولی میں یہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
Post Views: 34