حفاظت قرآن
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (پارہ۱۴، رکوع۱)
ترجمہ: بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔
برادران اسلام خدا وند قدوس نے قرآن مقدس کی حفاظت کی ذمہ داری خو لی ہے ارشاد ربانی ہے ہم خود اس کے نگہبان ہیں دوسری آسمانی کتابیں مثلاً زبور انجیل توریت کسی بھی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری رب نے نہیں لی یہی وجہ ہے کہ ہر آسمانی کتاب میں تحریف و ترمیم ہوتی ہے لیکن یہ اعجاز قرآن مقدس کو حاصل ہے کہ نزول سے لے کر صبح قیامت تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
جن و انس بلکہ ساری مخلوق کو یہ طاقت نہیں کہ اس میں کچھ تبدیلی کمی بیشی یا تحریف و ترمیم کر سکے یہ خصوصیت صرف قرآن شریف ہی کی ہے دوسری کتاب کو یہ بات میسر نہیں یہ حفاظت کئی طرح پر ہے ایک یہ کہ قرآن مقدس کو معجزہ بنایا کہ بشر کا کلام اس میں شامل ہی نہ ہو سکے ایک یہ کہ مقابلہ سے اس کو محفوظ فرمایا کوئی اس کی مثل بنانے پر قادر نہیں ایک یہ کہ ساری مخلوق اس کے نیست نابود کرنے اور معدوم کرنے سے عاجز ہے کفار حد درجہ دشمن ہونے کے باوجود اس کی مقدس کتاب کو معدوم کرنے سے عاجز و قاصر ہیں۔
قرآن مقدس کے نازل ہوتے ہی کاتبان وحی اونٹ کے چمڑے اور درخت کی چھال پر لکھ لیا کرتے تھے اور بعض صحابہ کرام قرآن مقدس کو حفظ بھی کر چکے تھے پھر زمانہ ترقی کرتا گیا آج رنگ برنگی کاغذ پر قرآن مقدس کے مقدس حروف لکھے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا خداوند قدوس صرف پریس اور کاغذ کے ذریعہ ہی قرآن مقدس کی حفاظت نہیں فرماتا ہے بلکہ ہزاروں نہیں لاکھوں حافظ قرآن کے سینوں میں قرآن مقدس الحمد کے الف سے والناس کے سین تک محفوظ ہے کاغذ اور پریس میں بغاوت اور دشمنی کی بنیاد پر تبدیلی کی جا سکتی ہے کوئی کاتب لکھنے میں غلطی کر سکتا ہے لیکن وہ قرآن مقدس جو سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے کسی انسان میں یہ طاقت نہیں کہ اس میں کچھ تبدیلی کر سکے اللہ تبارک و تعالیٰ حافظ قرآن کے ذریعہ قیامت تک قرآن مقدس کی حفاظت فرمائے گا دنیا میں یہ واحد کتاب ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں۔