حضور ﷺ کی محبت مدار ایمان

#Mohabbat-e-Rasool
محبت رسول


از قلم : مفتی محمد ابراہیم آسی

قُلْ اِنْ کَاْنَ آباؤُکُمْ وَ اَبْناَئُکُمْ وَ اِخْواَنُکُمْ وَ ازْواَجُکُمْ وَ عَشِیْرَتَکُمْ وَ اَمْواَلُنِ اقْتَرَفْتُمُوْھَا وَ تِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَساَدَہَا وَ مَسٰکِنَ تَرْضَوْنَہَا اَحَبُّ اِلَیْکُمْ مِنَ وَ رَسُوْلِہ وَ جِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُواْ حَتّٰی یَاتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہ وَ اَللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الفٰسِقِیْنl(ٖپارہ۱۰، رکوع ۹)
ترجمہ: تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور مکان کی یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو رستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
برادرانِ اسلام اس آیت میں یہ بتایا گیا کہ تمام رشتہ دار مال و دولت سے زیادہ محبت اللہ اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہونا چاہیے حضور سید عالم ﷺ کی محبت ہی ایمان کی جان ہے جس کو آقائے دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت نہ ہو اس کا ایمان نہیں قرآن و حدیث سے ثابت ہے اللہ کے پیارے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام تو باعـ تخلیق کائنات ہیں فخر موجودات ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں تم میں سے کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں ۔
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال فرماتے ہیں:
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
ایک عورت نے حضرت عائشہ صدیقہرضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آرام گاہ رسول کھول دیا جائے تاکہ میں زیارت کر سکوں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حجرہ مبارک کو کھول دیا وہ عورت حجرہ شریفہ میں داخل ہوئی اور رونے لگی یہاں تک کہ روتے روتے اس نے جان دے دی بلا شبہ حضور اقدس ﷺ کی محبت ہی مدار ایمان ہے اس کے بغیر ایمان و اعمال مکمل نہیں ہو سکتا۔
دل ہے وہ دل جو تیری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو تیرے قدموں پر قربان گی