حضور کی گستاخی کفر ہے

حضور کی گستاخی کفر ہے

وَاَلَّذِیْنَ یُؤذُؤنَ رَسُولَ اللّٰہِ وَلَہُمْ عَذاَبٌ اَلِیْمٌl (پارہ ۱۰،رکوع۱۴)
ترجمہ:اور جو رسول اللہ کو ایذ دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ برادران اسلام حضور سیّد عالم ﷺ کی گستاخی بلاشبہ کفر ہے قرآن مقدس برملا اعلان فرماتاہے کے جو رسول علیہ الصلوٰہ والسلام کو تکلیف پہچائے انکے لیے درد ناک عذاب ہے دوسری جگہ قرآن مقدّس میں ارشاد فرماتاہے جو حضور ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرے انکے اعمال اکارت کردئے جاتے ہیں اور انہیں پتاہی نہیں ہوتا ہے اس سے پتاچلا کہ سرورکائنات ﷺ کی شان میں توہیں کرنا حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کوتکلیف پہنچانا ہے چاہے توہین زبان سے کی جائے چاہے قلم سے کی جائے ۔ اللہ عزوجل شانہ قرآن مقدّس میں ارشاد فرتاہے بہانے نہ بنائو تم کافر ہو چکے مسلمان ہوکر بات واضح ہو گئی کہ اگر کوئی مسلمان حضور سیّد عالم ﷺکی توہین کر تا ہے تو کافر ہوجائے گا اسکا کوئی بہانہ کام نہ آئیگا سورہ بقرہ میں ارشاد ربّانی ہے اے ایمان والوں راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کیلئے درد ناک عذاب ہے اس آیت کریمہ کا شان نزول یہ ہے کے جب صحابہ کرام میں حضور ﷺ تعلیم تلقین فرماتے تو کبھی درمیان میں صحابہ کرام عرض کرتے راعنایا رسول اللہ اسکا مطلب یہ ہوتا تھا کے آپ ہماری رعایت فرمائے یعنی گفتگو کو اچھی طرح سمجھنے کا موقع دیجئے اور یہودیوںکی زبان میںیہ لفظ بے ادبی کے لئے استعمال ہوتا تھا تو ، یہودیوں اور منافقوں نے بے ادبی کی نیت سے کہنا شروع کیا حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہودیوں کی اصطلاح سے واقف تھے ایک روز ان کی زبان سے سنکر فرمایا اے دشمنانِ خدا تم پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ لفظ سنا تو اس کی گردن مار دوںگا یہود نے کہا مسلمان بھی تو یہ یہی کہتے ہیں یہ سنکر آپ رنجیدہ ہو گئے اور حضور سیدِ عالم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ وہ آیت نازل ہو گئی جس میں راعنا کہنے کی ممانعت کر دی گئی اس کی جگہ نظر انظرنا کہنے کا حکم دیا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان اقدس میں تعظیم وتوقیر کے الفاظ استعمال کرنا ضروری ہے ایسے الفاظ ہرگز استعمال نہ کرے جس سے بے ادبی کا پہلو ظاہر ہو رہا ہے۔ ورنہ ایمان ختم ہو جائیگا اعمال برباد ہو جائیںگے۔