حضور سراپا مظہر قدرت
حضور علیہ السلام کو پروردگار عالم نے تمام خوبیاں عطا فرمائی آج تک کسی کو ملی ہے نہ مل سکتی ہے ۔ حضور علیہ السلام نے رب تبارک تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا ہے اسی لئے رب تعالیٰ حضور علیہ السلام کا ہے ۔ کل قیامت کے دن ہر انبیاء نفسی نفسی فرمائیں گے مگر حضور علیہ السلام امتی امتی فرمائیں گے کیو نکہ حضور علیہ السلام سراپا مظہر قدرت الہی ہیں ۔ وجود آپ کاہے اور ظہور رب کی قدرت کا ہے ۔ اگر پروردگار کی تمام صفات کو دیکھنا ہے تو حضور علیہ السلام کو دیکھو جس نے حضور علیہ السلام کے چہرے کو دیکھا اس نے خدا کے چہرے کو دیکھا ، جس نے حضور علیہ السلام کے وجود کو دیکھا اس نے اللہ کے وجود کو دیکھا ۔ سر کار مدینہ ارشاد فرماتے ہیں {من رانی فقد راء الحق} جس نے مجھے دیکھا یقینا اس نے رب کو دیکھا ۔ اس لئے حضور علیہ السلام سراپامظہر قدرت ہیں ۔ قرآن میں حضور علیہ السلام کو سراجا منیرا فرمایا ہے ۔ اگر سراجا منیرا سے مراد سورج ہے تو آپ آسمان ہدایت کے سورج ہیں ، سورج سے سب روشنی پاتے ہیں وہ کسی سے روشن نہیں ہوتا اسی طرح حضور علیہ السلام سے سب منور ہیں لیکن حضور علیہ السلام کسی سے مستنیر نہیں ۔ اگر سراجا منیرا سے مراد چراغ لیا جاوے تب بھی درست ہے کہ چراغ سے تاریکی دور ہوتی ہے ، حضور علیہ السلام سے جہل و کفر کی تاریکی دور ہوئی ہے ، چراغ سے گمشدہ چیز تلاش کی جاتی ہے حضور علیہ السلام سے گمشدہ کوراہ ہدایت ملی ہے ۔ چراغ گھر والوں کے لئے رحمت ہے اور چوروں کے لئے زحمت ہے اسی طرح حضور علیہ السلام مومن کے لئے محافظ اور شیطان کو دفع فرمانے والے ہیں ۔ ایک چراغ سے ہزاروں چراغ جل جائیں تو روشنی کم نہیں ہوتی اسی طرح حضور علیہ السلام کے نور سے سب منور لیکن سرکار کے نور میں کوئی کمی نہیں چراغ ہر طرف اپنا نور دیتا ہے حضور علیہ السلام نے بھی اپنا نور عرش وفرش پر بکھیر دیا ۔ چراغ کی آگ اوپر کی طرف جاتی ہے حضور علیہ السلام بھی معراج میں اور تشریف لے گئے ۔ جہاں کوئی فرشتہ بھی نہ پہونچ سکے ۔ چراغ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے ۔ حضور علیہ السلام مکہ کی وادیوں کو چمکا کر مدینہ تشریف لے گئے اور مدینہ والوں کو اپنے نو ر سے روشن کیا ۔ اگر آپ بغور قرآن کا م مطا لعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ قرآن کی ایک ایک آیت سرکار مدینہ کی تعریف میں ہے ۔ ساری دنیاکے لوگ مل کر بھی سرکار دو عالم کی کماحقہ تعریف نہیں کرسکتے ۔سبھی کو تعریف کرنے کے بعد یہی کہنا پڑتا ہے۔
لایمکن الثنا ء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
وَ مَاعَلَیْنَا اِلَّا البَلٰغ
Post Views: 34