حضرت وحشی کو معافی

حضرت وحشی کو معافی
وحشی یہ وہی ہیں جو جنگ اُحد میں آپ کے چچا حضرت حمزہ ،کو نیزہ مار کر شہید کر دیا تھا۔ فتح مکہ کے دن بھاگ کر چلے گئے تھے۔ ایک وفد کے ساتھ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا، اسلام لائے ۔آپ نے ان کی زبانی اپنے چچا کی شہادت کی داستان سنی ،رنج و غم میں ڈوب گئے۔
ان کو بھی معاف کر دیا اور کہا کہ وحشی، تم میرے سامنے مت آیا کرو۔ حضرت وحشی نے بارگاہ رسالت میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اللہ میرے گناہ کو معاف کر دے گا؟ تو سورہ زمر کی آیت نازل ہوئی۔
ترجمہ: اے حبیب آپ فرما دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر حد سے زیادہ زیادتی کی،اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو جائو، اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا وہ یقیناً بڑا بخشنے والا اور بہت مہربان ہے۔
حضرت ابوبکرکی خلافت میں مسیلمۃ الکذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا ۔لشکر اسلام نے جہاد کیا۔ حضرت وحشی اپنا نیزہ لے کر اس جنگ میں شریک ہوئے۔ اور نیزہ سے مسیلمۃالکذاب کو قتل کر دیا۔ اور کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں سب سے بہترین انسان کو قتل کیا اور اسلام میں سب سے بدترین انسان کو قتل کیا۔