حضرت حنظلہ
ایک مر تبہ سرکار دوعا لم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جہاد کے لئے پکارا ، ہر کوئی ڈورتے ہوئے بارگا ہ رسالت میں حاضر ہوئے ۔ سرکار دوعا لم صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ بھی سنے ، حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی شادی فی الحال نئی نئی ہوئی تھی ۔ آپ کو نہانے کی حاجت تھی لیکن آپ نے تاخیر کرنا مناسب نہ سمجھا اور دل میں خیال آیا کہ تاخیر کرنے میں گناہ گار نہ ہو جاؤں ، آپ اسی حالت میں لڑائی کے لئے میدان میں حاضر ہو گئے اور بہادری کے ساتھ کفار کوتہ تیغ کرتے رہے آخر کار آپ نے جام شہادت نوش فرمایا ۔ لڑائی ختم ہونے کے بعد سرکار نے حکم دیا شہیدوں کو اٹھا لاؤ ، صحابہ کرام شہیدوںکو اکٹھا کئے لیکن حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی لاش غائب تھی ، تھوڑی دیر کے بعد دیکھتے ہیں کہ آسمان سے فرشتے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی لاش کو نہلا کراور کفن پہنا کر زمین کی طرف لارہے ہیں اسی لئے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہکا لقب غسیل الملائکہ پڑگیا ۔
برادران اسلام دیکھا آپ نے شہیدوں کا مرتبہ ، اگر نہانے کی ضروت تھی تو فرشتوں نے ادب و احترام کے ساتھ غسل دیا اور قیامت تک کے لئے غسیل الملائکہ لقب پڑگیا۔
و جابر بادشاہوں کے تخت و تاج کو اپنے پیر سے ٹھوکر مار دیئے ہیں۔
۔
Post Views: 36