حضرت بلال کعبہ کی چھت پر
جب نماز کا وقت ہوا،ا ٓپ نے حضرت بلال کو کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کا حکم دیا۔ آپ کوہ صفا کی پہاڑی کے نیچے بیٹھے۔ لوگ آپ کے مقدس ہاتھ پر بیعت کرنے لگے ۔جب مردوں کی بیعت ختم ہوچکی، تو عورتوں نے بیعت لی ام المومنین عائشہ بیان کرتی ہیں خدا کی قسم! آپ عورتوں کی بیعت صرف کلام سے فرماتے تھے۔ ابو سفیان کی بیوی ہند بھی بیعت کے لئے آئی مسلمان ہوگئیں۔
فتح مکہ کے وقت کچھ لوگ فرار ہوگئے تھے۔ عکرمہ بن ابوجہل ان کی اسلام دشمنی کا کیا کہنا ،یہ بھاگ کر یمن چلے گئے۔ ان کی بیوی ام حکیم نے اسلام قبول کرلیا اور اپنے شوہر کے لئے آپ سے معافی کی درخواست کی ،آپ نے معاف فرما دیا۔ جب ان کو خبر لگی انتہائی تعجب کے ساتھ کہا ،کیا مجھ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کر دیا ۔جب بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے ،آپ بہت خوش ہوئے اور تیزی سے ان کی طرف بڑھے کہ جسم اطہر سے چادر گر پڑی، عکرمہ خوشی خوشی آپ کے دست حق پر اسلام لے آئے۔