حسنِ اخلاق

حسنِ اخلاق

وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(پارہ۴،رکوع۵)
ترجمہ: اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔
برادران اسلام حسن اخلاق بہت بڑی چیز ہے قرآن و احادیث میں حسن اخلاق کی فضیلت آئی ہے لہذا ہمیں حسن اخلاق کو اپنانا چاہیے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا نیکی حسن اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا آگاہ ہونا تجھے ناپسند ہو حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور سید عالم ﷺ بد خلق اور فحش کلام کرنے والے نہیں تھے اور آپ فرمایا کرتے تھے تم میں بہترین انسان وہ ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مومن بندے کی میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی اور بے شک بدخلق اور بے ہودہ بکنے والا اللہ تبارک و تعالیٰ کا دشمن ہے۔ سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم الانبیاء حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں اور تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہوں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے حضور اقدس ﷺ سے سنا کہ بیشک بندہ اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے روزہ دار اور رات کو قیام کرنے والے کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اس شخص کو جو حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑا ترک کر دیتا ہے جنت کی چار دیواری میں مکان کی ضمانت دیتا ہوں اور جو جھوٹ بولنا ترک کر دے اگر چہ وہ مذاق کے طور پر ہی ہو میں اسے وسط جنت کی ضمانت دیتا ہوں اور اچھے اخلاق والے کو جنت کے اعلیٰ مقام کی ضمانت دیتا ہوں۔