حدیث
حدیث قدسی ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے جو میرا ولی ہوتا میں اس کاپیر بن جاتا ہوں ۔ جس سے وہ چلتا ہے ، میں اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ۔
برادران ملت حدیث مذکورہ سے معلوم ہوا کہ ولی کا چلنا حقیقت میں خدا کا چلنا ہے ، ولی کا دیکھنا حقیقت میں خدا کا دیکھنا ہے ، ولی کا سننا حقیقت میں خدا کا سننا ہے اسی طرح جو ولی کہدیتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ، ولی اگر پتھر کو سونا کہدے تو وہ سونا بن جاتا ہے ۔ ولی اگر دریا سے راستہ دینے کے بارے میں کہتا ہے تو وہ راستہ دے دیتا ہے ۔ اسلے کہ زبان تو ولی کہ ہوتی ہے حقیقت میں وہ بات خدا کی ہوتی ہے اس لئے ولی جو کہتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اپنے اولیاء کو اختیار عطا فرماتا ہے ، ہر دور میں ولی کا ہونا بہت ضروری ہے ، ہر ملک میں ولی کا ہونا ضروری ہے ، ہرشہر میں ولی کا ہونا ضروری ہے جس کے ماتحت اس شہر کانظام چلتا ہے ، جس کے صدقے و طفیل میں اللہ تبارک و تعالیٰ رحمت نازل کرتا ہے ، جس کے وجود کے سبب اللہ تبارک و تعالیٰ آنے والی آفات کو دور فرما تا ہے جس کے وسیلے سے اللہ تبارک و تعالیٰ دعا ئیں قبول فرماتا ہے ، جس کے وسیلے نامرادوں کو مرادیں ملتی ہیں ، جس کے وسیلے سے انسان کا ایمان محفوظ ہو جاتا ہے ۔ دنیا سے برائیاں ختم کرنے کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ ولیوں کو بھیجتا ہے جو تلواروں سے نہیں بلکہ چشمِ بصرت سے تبلیغ کرتے ہیں اور دنیا والوں کو راہِ راست پر لاتے ہیں ۔
Post Views: 34