حدیث کا مفہوم

حدیث کا مفہوم
ملعون وسیم رضوی کتاب کے صفحہ ۷۶؍ پر صحیح بخاری کا ایک حوالہ حضرت خولہ کے تعلق سے لکھتا ہے، جو جھوٹ پر مبنی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ
’’ہشام کے والد نے کہا: خولہ ایک ایسی عورت تھی جس نے ہمبستری کے لئے خود کو رسول کے سامنے پیش کردیا۔ اس لئے عائشہ نے اس سے پوچھا، کیا تجھے ایک اجنبی مرد کے سامنے خود کو پیش کرنے میں شرم نہیں آئی تھی؟ تب رسول نے سورہ احزاب کی آیت 50/33 سنادی، جس میں کہا گیا تھا، اے نبی تم ہمبستری کے لئے اپنی بیوی کی باری ملتوی کر سکتے ہو۔ اس وقت عائشہ بولی، ایسا لگتا ہے کہ تمہارا اللہ تمہیں اور زیادہ مزہ کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔‘‘
لعنۃ اللہ علی الکذبین جھوٹوں پر اللہ کی لعنت۔
اصل حدیث کا عربی متن ملاحظہ فرمائیں ۔
صحیح بخاری، جلد سوم، صفحہ ۶۷ ،کتاب النکاح، حدیث نمبر ۱۰۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَکِيمٍ مِنْ اللَّائِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلرَّجُلِ فَلَمَّا نَزَلَتْ تُرْجِئُ مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَی رَبَّکَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاکَ ۔
ترجمہ: ’’ہشام نے اپنے والد عروہ سے روایت کی کہ خولہ بنت حکیم ان خواتین میں سے ہیں جنہوں نے اپنے نفس کو نبی کریم ﷺ کو ہبہ کیا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا عورت شرم نہیں کرتی کہ اپنا نفس کسی آدمی کو ہبہ کرتی ہے تو یہ آیۃ کریمہ تُرْجِئُ مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں تو یہی دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی مرضی پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے۔‘‘
قارئیں! ذرا انصاف سے حدیث کے پورے عربی متن کو بار بار پڑھئے، کہیں ہے کہ معاذ اللہ حضور اقدس ﷺ نے خولہ کے ساتھ ہمبستری کی تھی؟
حدیث کے الفاظ یہ ہیں وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حضرت خولہ نے اپنے نفس کو ہبہ کر دیا۔
جاہل ملعون وسیم رضوی کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہبہ کا مطلب ہمبستری کرنا نہیں ہوتا۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت خولہ نے ہبہ کیا تو اس کو حضور ﷺ نے قبول فرمایا۔
سب سے پہلے ملعون وسیم رضوی کے جھوٹ کو دیکھئے۔
جھوٹ نمبر ۱:
ہمبستری کے لئے خود کو رسول کے سامنے پیش کیا۔
جھوٹ نمبر۲:
اجنبی آدمی کے سامنے پیش کیا۔
جھوٹ نمبر ۳:
تمہارا اللہ تمہیں اور زیادہ مزہ کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔
حدیث کے الفاظ یہ ہیں،
يُسَارِعُ فِي هَوَاکَ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کی مرضی کو جلدی پورا کرتا ہے۔
ملعون وسیم رضوی نے قرآن کی آیت کا ترجمہ اور مفہوم دونوں غلط بیان کیا ہے۔
قرآن کی آیت ’’ترجی من تشائ منھن وتؤی الیک من تشاء‘‘
(سورہ احزاب: ۵۱)
ان میں سے جسے چاہو پیچھے ہٹائو اور جسے چاہو اپنے پاس جگہ دو۔
ملعون وسیم رضوی لکھتا ہے،
’’اے نبی تم ہمبستری کے لئے اپنی باری ملتوی کرسکتے ہو۔‘‘
آئیے! اس آیت کی تفسیر، مشہور تفسیر کی کتاب میں ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر مدارک، سورہ احزاب، آیت نمبر ۵۱، صفحہ ۹۴۷،
’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ آیت ان عورتوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنی جانیں حضور اقدس ﷺ پر ہبہ کر دیں اور حضور اقدس ﷺ کو اختیار دیا گیا کہ ان میں سے جسے چاہیں قبول کریں اور ان کے ساتھ نکاح فرمائیں اور جس کو چاہیں انکار کر دیں۔‘‘
قارئین! اس تفسیر سے واضح ہوگیا کہ ہبہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حضور کو اختیار تھا کہ حضرت خولہ سے نکاح کریں یا انکار کر یں، نبی کریم ﷺ نے حضرت خولہ سے نکاح نہیں فرمایا۔
تفسیر اور احادیث سے ثابت ہوگیا کہ ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا ہے کہ حضرت خولہ پر لفظ ہبہ کے ذریعہ ہمبستری کی پیش کش کا الزام لگاتا ہے۔