جھوٹ

جھوٹ

فَنَجْعَلْ لَعنَتَ اللّٰہِ عَلیَ الْکٰذِبِیْنَ (پارہ۳، رکوع۱۴)
ترجمہ: تو جھوٹو پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔
برادران اسلام جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے قرآن مقدس میں متعدد مقامات پر جھوٹ بولنے والے انسان پر لعنت کا تذکرہ ہے۔ انسان جھوٹ بول کر اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے جھوٹے انسان کا کوئی اعتبار بھی نہیں کرتا ہے سماج میں لوگ اس کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کے لیے تباہی اور بربادی ہے ایک مرتبہ سید الانبیاء ﷺ سے دریافت کیا گا کہ کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ہو سکتا ہے پھر لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہو سکتا ہے پھر آپ سے پوچھا گیا کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے تو سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا حدیث شریف میں خاتم الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا چار خصلتیں جس کے اندر پائی جائیں وہ منافق ہے اور جس کے اندر ان خصلتوں میں سے ایک پائی جائے وہ نفاق میں مبتلا ہے وہ خصلتیں یہ ہیں جب امانت سپرد کی جائے اس میں خیانت کرے جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب جھگڑا کرے تو بیہودہ بکے۔
سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فخر موجودات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کیا میں گناہ کبیرہ میں سے بڑے گناہ کو نہ بتاؤں؟ تو میں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ تو سید الکونین حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا گناہ کبیرہ میں سے بڑے گناہ یہ ہیں کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ایذا رسانی کرنا حضور سرور کائنات ﷺ مسند لگا کر آرام فرما رہے تھے یہ فرماتے وقت ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا خبردار اور جھوٹ بات پھر اسی لفظ کو اتنی دیر تک دہراتے رہے کہ ہم لوگوں نے اپنے دل میں کہا کاش حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بات کے فرمانے سے خاموش ہو جائیں اور کوئی دوسری گفتگو فرمائیں۔
پیارے دینی بھائیو! اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ السلام کو جھوٹ سے کتنی نفرت تھی ہمیں جھوٹ بولنے سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ اللہ کی لعنت سے محفوظ رہیں۔