جھوٹے پر اللہ کی لعنت

جھوٹے پر اللہ کی لعنت
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب صفحہ ۱۰۷ ؍ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد عیاشی کے دوران نشہ کا بھی استعمال کرتے تھے۔‘‘
معاذ اللہ سو بار معاذ اللہ! اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے جھوٹے اور من گھڑت جملے ملا کر صحیح بخاری کی حدیث لکھتا ہے۔ پہلے آپ اس کی جھوٹی حدیث کو ملاحظہ کریں پھر میں اصل حدیث کا عربی متن پیش کرکے اس کا محاسبہ کرتا ہوں۔
صفحہ ۱۰۶، پر لکھتا ہے:
’’عائشہ کے حوالے سے ایک حدیث یہ بھی ہے کہ عائشہ نے کہا، رسول جحش کی بیٹی زینب (محمد کے منہ بولے بیٹے زید کی بیوی) کے گھر چھپ کر شہد پینے کے بہانے ’’مغافیر‘‘ نام کی ایک بدبودار شراب پیتے تھے۔ میں نے اور حفصہ نے اس کی تفتیش کی ترکیب بنائی، اگر وہ شراب پئیں گے تو اس کی بوسونگھنے سے پتہ چل جائے گا، بعد میں یہی بات صحیح نکلی۔ پکڑے جانے پر رسول بولے قسم کھاتا ہوں کہ اب ایسا نہیں کروں گا اور تم بھی وعدہ کرو کہ یہ بات کسی کو نہیں کہو گی۔‘‘
اب آئیے حدیث کا عربی متن ملاحظہ کریں ،
صحیح بخاری جلد سوم صفحہ ۱۲۰، کتاب الطلاق، حدیث نمبر ۲۴۸۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ زَعَمَ عَطَائٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَمْکُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْکَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ لَهُ ذَلِکَ فَقَالَ لَا بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِلَی إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ سورۃ التحریم آیۃ 1/4 لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ سورۃ التحریم آیۃ 3 لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا.
ترجمہ: ’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ حضرت زینب بنت جحش کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیا کرتے تھے۔ چنانچہ میں نے اور حفصہ نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی کریم ﷺ وہاں سے تشریف لائیں تو وہ کہے کہ آپ کے دہن مبارک سے مغافیر کی بو آتی ہے، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ پس ہم میں سے ایک کے پاس حضور تشریف لائے تو اس نے ایسا ہی کہا، آپ نے فرمایا: ایسا نہیں ہے بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے پاس سے شہد پیا ہے اور آئندہ نہیں پیوئوں گا۔ تویہ آیۃ کریمہ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ سے إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ تک نازل ہوئی۔
ترجمہ: اے نبی تم اسے حرام کیوں کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے ۔۔۔۔۔سے ۔۔۔۔۔۔ إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ تک ۔ ترجمہ: اگر وہ دونوں اللہ کی طرف رجوع کریں۔۔۔۔۔ یہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف خطاب ہے۔ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ۔۔۔ اس  حدیث سے مفہوم یہی نکلتا ہے کہ میں نے مغافیر نہیں کھایا بلکہ شہد پیا ہے۔
قارئین! آپ نے اصل حدیث ملاحظہ فرمائی، آپ اس حدیث کے متن کو بار بار پڑھئے اور ملعون وسیم رضوی کی بکواس سے موازنہ کیجئے۔ اب میں اس کا جھوٹ شمار کراتا ہوں۔
جھوٹ نمبر ۱:
’’چھپ کر شہد پینے کے بہانے مغافیر پیتے تھے۔‘‘
جھوٹ نمبر ۲:
’’رسول بولے قسم کھاتا ہوں۔‘‘
جھوٹ نمبر ۳:
’’تم وعدہ کرو یہ بات کسی کو نہیں کہو گی۔‘‘
آپ نے پوری حدیث کو پڑھا کیا حضور اقدس ﷺ چھپ کر گئے تھے؟ بلکہ آپ کا معمول تھا آپ شہد پینے جاتے تھے۔ پوری حدیث میں کہیں نہیں ہے کہ رسول نے قسم کھائی ہو، پوری حدیث میں کہیں یہ نہیں ہے کہ تم وعدہ کرو یہ بات کسی کو نہیں کہو گی، یہ سب سراسر جھوٹ اور ملعون وسیم رضوی کی رسول دشمنی ہے۔
اب آئیے ملعون وسیم رضوی کے جھوٹوں سے پردہ اُٹھاتے ہیں وہ اتنا بڑا نادان اور جاہل ہے اسے پتہ ہی نہیں کہ مغافیر کیا ہے؟
وہ کھانے کی چیز ہے یا پینے کی؟
وہ حرام ہے کہ حلال؟
وہ نشہ آور ہے کہ نہیں؟
وہ کہتا ہے ’’مغافیر ایک بدبودار شراب ہے۔‘‘
ارے جاہل! وہ شراب نہیں ہے اور نہ اس سے نشہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ پینے کی چیز ہے۔
کچھ کھانے کی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو منع تو نہیں ہے اور نہ ہی اس سے نشہ ہوتا ہے لیکن اس میں بُو آتی ہے، جیسے ہندوستان میں کچی پیاز اور لہسن۔
صحیح بخاری میں مغافیر کے لئے ’’اکل‘‘ کھانے کا لفظ آیا ہے ’’شرب‘‘ پینے کا نہیں۔
صحیح بخاری میں ہے اکلت مغافیر؟ لابل شربت عسلا یعنی مغافیر کے لئے اکلت اور شہد کے لئے شربت کا لفظ آیا ہے۔ جس جاہل کو کھانے اور پینے کی عربی نہیں معلوم وہ حدیث کو کیا سمجھ سکتا ہے۔ جیسے کوئی انگریز ہندوستان آئے اور اسے معلوم نہ ہو کہ روٹی کیا چیز ہے تو وہ کہہ گا کہ ہم روٹی پئے گا۔ وہی حال ملعون وسیم رضوی کا ہے وہ کہتا ہے رسول مغافیر پیتے تھے مغافیر گوند کی طرح ایک چیز ہے جسے پیا نہیں بلکہ کھایا جاتا ہے۔
حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ رسول خدا ﷺ نے نہ قسم کھائی اور نہ یہ کہا کہ کسی کو نہیں کہنا بلکہ آپ نے یہ کہا کہ اب شہد بھی نہیں پیوئوں گا تو اللہ کی طرف سے یہ حکم آیا کہ اے نبی جو چیز حلال ہے اسے آپ اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہیں اور حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کو یہ حکم ہوا کہ اللہ کی بارگاہ میں رجوع کریں۔ اس حدیث کے مطالعہ سے روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ ملعون وسیم رضوی کی ساری باتیں جھوٹی ہیں۔
ایک تو آپ نے مغافیر کا استعمال ہی نہیں کیا اور مغافیر میں نشہ ہوتا ہی نہیں ہے تو اب بتائیے کہ اس کا یہ کہنا جھوٹ ہے کہ نہیں، کہ محمد نشہ کا استعمال کرتے تھے۔