جھوٹی گواہی
فَاجْتَنِبُواْ الرِّجْسَ مِنَ الاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُواْ قَوْلَ الزَّوْرِ (پارہ ۱۷، رکوع۱۱)
ترجمہ: تو دور رہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے۔
برادران اسلام جھوٹی گواہی دینا حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے حضور سید المرسلین ﷺ نے اسے عظیم ترین گناہ بتایا ہے۔
حضور سید المرسلین ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا جھوٹی گواہی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا برابر کر دیا گیا یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید العرب و العجم ﷺ نے ارشاد فرمایا جھوٹی گواہی دینے والے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹیںگے جب تک جہنم اس کے لیے واجب نہیں کر دی جائے گی ایک دوسری جگہ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا سنو کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ نہ بتاؤں؟ آپ ﷺنے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ بات بولنا۔
برادران اسلام آج مسلم سماج میں جھوٹی گواہی دینے کا بازار گرم ہے جھوٹی گواہی یا تورشوت لے کر دی جاتی ہے اور جو کچھ کہلوایا جاتا ہے بے خوف خطر کہہ دیتے ہیں یا تو رشتہ داری یا دوست احباب اور تعلقات کی وجہ سے جھوٹی گواہی دی جاتی ہے جیسے اپنے بھائی اپنے خاندان والے کی حمایت کی وجہ سے جھوٹی گواہی دی جاتی ہے یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔
ابن ماجہ میں ہے کہ قیامت کی ہولناکی اور جھوٹی گواہی دین والے کی گواہی سے پرندں کو بھی دہشت ہوتی ہے کہ مارے ڈر کے وہ اپنی چونچ زمیں پر مارنے لگتے ہیں اور دموں کو ہلاتے ہیں اور جھوٹی گواہی دینے والوں کے قدم زمین سے لگتے ہی انہیں دوزخ میں پھینک دیا جاتا ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا بندہ جب جھوٹ بولتا ہے اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہو جاتا ہے۔ سفیان ابن اسد حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ س روایت ہے کہ میں نے سرور کائنات ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بڑی خیانت کی بات یہ ہے ہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس بات میں سچا جان رہا ہے اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے ۔
پیارے دینی بھائیو! دنیا کے لالچ میں یا تعلقات کی بنیاد پر ہرگز ہرگز جھوٹی گواہی نہ دیں۔