جھوٹی باتیں

جھوٹی باتیں
ملعون وسیم رضوی کتاب کے صفحہ ۶۲؍ پر لکھتا ہے کہ
’’محمد کی موت کثرت مجامعت سے ہوئی تھی۔‘‘
معاذ اللہ سو بار معاذ اللہ! وہ حوالہ کے طور پر ابن ہشام کا ذکر کرتا ہے۔
ابن ہشام نے حضور اقدس ﷺ کے مرض اور وصال کا ذکر ۲۰؍ صفحات پر کیا ہے لیکن کہیں بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ معاذ اللہ حضور ﷺ کا وصال کثرت مجامعت سے ہوا۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ انصاف پسند خود ابن ہشام کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا ہے۔
سیرت ابن ہشام جلد دوم، صفحہ ۷۸۹ میں ہے کہ
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کے سر کا درد بڑھ گیا۔ اس وقت آپ باری باری سے اپنی بیویوں کے پاس رہتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو آپ میمونہ کے گھر میں تھے۔ آپ نے تمام ازواج مطہرات کو بلایا اور ان سے اجازت چاہی کہ وہ میرے گھر میں علالت کا وقت گزاریں اور ازواج مطہرات نے اجازت دے دی۔‘‘
جو بات کتاب میں نہ ہو اس کا حوالہ دینا، اور اس جھوٹی بات کو کتاب اور صاحب کتاب کی طرف منسوب کرنا کتنی بے باکی اور زیادتی ہے، جو بات ابن ہشام نے لکھی ہی نہیں ان کی طرف منسوب کرنا ہر انصاف پسند اس کو ظالمانہ حرکت اور جھوٹ قرار دے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ جھوٹ اور فریب ملعون وسیم رضوی کی فطرت میں شامل ہے۔