جنات
وَالْجَآنَّ خَلَقَہٗ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ (پارہ۱۵، رکوع۳)
ترجمہ: اور جن کو اس سے پہلے بنایا ہے بے دھوئیں کی آگ سے۔
برادران اسلام جنات بھی اسی کی مخلوقات میں سے ہے اور اس کی تخلیق انسان سے قبل ہوئی جنات کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا قرآن مقدس میں متعدد جگہ اس کی تخلیق کا ذکر آیا ہے اور جن کو آگ کی لپیٹ سے پیدا کیا گیا دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے جنات کے تعلق سے ’’وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے‘‘ سورہ حجر میں ارشاد ربانی ہے ’’ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا اور اس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپیٹ سے پیدا کر چکے تھے‘‘ اس آیت کریمہ میں واضح لفظوں میں بتا دیا گیا ہے کہ جن انسان سے پہلے پیدا کیے گئے ہیں جنات کی حقیقت سے انکار کرنا قرآن کا انکار کرنا ہوگا بعض متقدمین کا خیال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنات کو انسانوں سے دوہزار سال پیدا کیا حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو انسان سے دوہزار سال پیدا کیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جنات زمین کے باشندے تھے اور فرشتے آسمان کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے باپ ’’سومیا‘‘ کو پیدا کیا اور اس سے کہا تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ ہم لوگوں کو دیکھیں لیکن لوگ ہمیں نہ دیکھ سکیں ہمیں زمین میں دفن کیا جائے ہم لوگوں میں بوڑھا دوبارہ جوان ہو جائے چنانچہ اس کی یہ خواہش پوری کر دی گئی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو پیدا کیا اور زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنوں کی تین قسمیں ہیں ایک وہ ہے جو ہوا میں اڑتی ہے دوسری قسم وہ ہے جو سانپوں اور کنوں کی شکل میں ہوتی ہے اور تیسری قسم وہ ہے جو سفر اور قیام کرتی ہے جنوں کے وجود کو تسلیم کرنے کی دلیل یہ بھی ہے اس سلسلہ میں انبیاء کرام علیہم السلام سے تواتر واقعات منقول ہیں جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
قرآن مقدس میں ارشاد ربانی ہے ’’اے نبی فرما دو! میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا قرآن مقدس، ایک سورہ ہی سورہ جن کے نام سے موسوم ہے اسی سورہ میں ارشاد ربانی ہے ’’اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگتے ہیں اس طرح انہوں نے جنوں کا غرور اور بڑھا دیا‘‘ مذکورہ بالا آیات و احادیث سے ثابت ہو گیا کہ جنات کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔