جمعہ کے آداب وفضائل/ Juma Ke Aadab O Fazail

 جمعہ کے آداب وفضائل
از : قلم مفتی ابراہیم آ سی
اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو
یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو (سورہ جمعہ)
سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتمہارا ،بہترین دن جمعہ کا دن ہے۔ (ابوداؤد)۔
جمعہ فرض عین ہے اور اس کی فرضیّت ظہر سے زیادہ مؤکد ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔ (درمختار )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا،مجھ پر جمعہ کے دن اور جمعرات کو کثرت سے درود پڑھا کرو‘‘۔ (بیہقی)
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا،جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، خوشبو لگاتا ہے، اور اچھے کپڑے پہنتا ہے، پرسکون طریقے سے مسجد جاتا ہے، پھر کچھ رکعات نفل پڑھتا ہے، امام کے آنے پر نماز پڑھنے تک خاموش رہتا ہے، تو اس کا یہ عمل گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے(بخاری)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر کھڑے ہوتے ہیں، لہٰذا جو شخص جمعہ کے دن جلدی آتا ہے، تو اس کے لئے اونٹ کی قربانی کا اجر لکھتے ہیں۔ اس کے بعد آنے والوں کے لئے بالترتیب گائے، مینڈھا، مرغی اور انڈے کی قربانی کا اجر و ثواب لکھا جاتا ہے۔(بخاری)۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے: ’’لوگ جمعہ کو چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوںپر مہر لگا دے گا اور ان کو غافلوں میں سے بنا دے گا‘‘ (مسلم)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جو شخص جمعہ کے دن نہائے اور اچھی طرح غسل کرے اور جلدی جلدی آکر مسجد میں بیٹھ جائے، امام کے قریب ہو ، خاموشی سے بیٹھا رہے، اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا اجر ملے گا اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ (مسند احمد)۔
جو شخص جمعہ والے دن یا رات کو وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے گا‘‘۔ (ترمذی، مسند احمد، )۔
بے شک جمعۃ المبارک کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس وقت کوئی مسلمان بندہ نماز میں کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم)۔
، جمعہ کے دن کو اللہ نے پانچ خصوصیات عطا کی ہیں جو دیگر ایام کو حاصل نہیں وہ یہ کہ اسی دن اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اسی دن زمین پر اتارا اور اسی دن ان کی وفات ہوئی اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اس میں بندے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے اللہ اسے مرحمت فرما دیتا ہے۔ (مسند احمد)
جو شخص سستی کرتے ہوئے بلا عذر تین جمعہ ترک کر دے اللہ اس کے دل پر مہر کر دے گا۔(مسند احمد)