جــہــاد

جــہــاد
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَ سَیّدِنَا وَ مَولٰنامُحَمَّداً
صلیَّ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَسَلّم عَلَی الْعٰلمِینَ
جَمِیْعاً اَقَامَہ یَوم القَیَامَۃِ لِلمُذْنَبِیْنَ المتلوثین
الخطاِّثینَ الْھَالِکِیْنَ شَفِیْعاً امَّابَعَدُ فَقَدْ قَالَ
اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید اعوذ باللّٰہ من
الشیطان الرجیم اَلَّذین اٰمنواو ھاجروا وجا
ھدوا فی سبیل اللّٰہ باموالھم و اَنْفُسِھِمْ اعظم
درجۃ عند اللہ واولٰئک ھم الفائزِون
صدق اللہ العظیم و بلغنا رسولہ الکریم
برادران اسلام آئیے سب سے پہلے سبز گنبد میں آرام فرمانے والے آقا امام المرسلین ، شفیع المذنبین ، طٰہٰ ویٰسن ، سیاح لا مکاں ، مالک انس و جاں ، سید ابرار و اخیار ، شہنشاہ ذی وقار ، کائنات کے اولیںفصل بہار ،رسول اعظم ، نیر اعظم احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار گہر بار میں نہایت ہی عقیدت و محبت کے ساتھ درودشریف کا نذرانہ پیش فرمانے کی سعادت حاصل کریں ۔{ اَللّٰھُمَّ صَلی عَلیٰ سَیْدِنَا مولنا محمدٍ بارک وسلم صلاۃ و سلاماًعیک یا رسول اللہ}
                   حسن یوسف پہ کٹی مصر میں انگشت زناں
                  سر کٹا تے ہیں تیرے نام پہ مردان عرب
                                  مسجد میں نہ بیت اللہ کی دیواروں کے سائے میں
                                   نماز ِ عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے  میں
ابھی ابھی میںنے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے رب تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مال وجان سے اللہ کی راہ میں لڑے ، اللہ کے یہاں ان کا درجہ بڑا ہے اور وہ ہی مراد کو پہونچے ‘‘۔
اس آیت کریمہ سے ثابت ہو گیا کہ وہی لوگ کامیاب ہیں وہی لوگ مراد کو پہونچے جو ایمان لاکر اللہ کی راہ میں جہاد کئے ۔ جہاد کیا ہے ۔ برادران ملت ! جہا د اپنے دامن میں بہت سے مفہوم کوچھپا رکھا ہے ۔ جہاد کا مفہوم وسیع سے وسیع تر ہے ۔ اپنی جان کو اللہ کی راہ میں قربان کر دینے کا نام جہاد ہے ، اللہ کی راہ میں موت کو گلے لگانے کا نام جہاد ہے ، ہزاروں زخم کھانے کے باوجود زبان پر شکایت نہ لانے کا نام جہاد ہے ،اپنی اولاد کی جان کو اللہ کی راہ میں قر بان کر دینے کا نام جہاد ہے ، اپنے نفس کی ہر خواہشات کو کچل دینے کا نام جہاد ہے ، جو اپنی پیاری جان کواللہ کی راہ میں قر بان کر دیتے ہیں وہ شہید کہلاتے ہیں ۔ اور شہید کا درجہ بہت بلند ہو تا ہے ۔ اور ہونا بھی چاہیے کیو ں کہ یہ نعمت دولت سے حاصل نہیں کی جا سکتی ہے بلکہ اپنی جان کی قر بانی پیش کرکے حاصل کی جا تی ہے ۔ جو چیز جان دیکر حاصل کی جائے یقینا وہ چیز قیمتی ہو نا چاہیئے۔
آپ تا ریخ کا مطا لعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ مجا ہدین اسلام بڑی مصیبتیں اٹھا کر دوسروں تک اپنا پیغا م پہنچائے ہیں ۔ تپتی ہوئی ریت پر ننگے پاؤں سے اپنی منزل تک پہونچے ہیں ۔ بڑے بڑے چٹانوں سے ٹکرا کر اسلام کو بچائے ہیں خود تکلیفیں اٹھائے ہیں لیکن اسلام پر آنچ نہیں آنے دئے ۔ مجاہدین اسلام نے کبھی اپنی قلت کو مدنظر نہیں رکھا صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ کرکے اپنا قدم آگے بڑھایا ۔ بھوک پیاس سے ضرور نڈھال ہو گئے لیکن باطلوں کے آگے کبھی مات نہیں کھائے ۔مجا ہدین اسلام جب نعرہ تکبیر لگا کر میدان میں اترتے تو شیروں کے پاؤں بھی میدان سے اکھڑ جاتے ۔ مجاہدین اسلام جب میدان میں آتے ہیں تو ان کے دل میں دو ہی مقصد ہو تے ہیں اپنی جان کو اللہ کی راہ میں قربان کردینا یا باطلوں کو شکست دے دینا ۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایسے ایسے واقعات موجود ہیں جو دنیا والوں کے لئے درسِ عبرت ہیں ۔