جادواور چوری کا ثبوت قرآن کے حوالے سے
وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُواْ وَ یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ(پارہ۱،رکوع۱۲)
ترجمہ:
برادران اسلام جادو سے انکار نہیں کیا جا سکتا جادو کا تذکرہ قرآن مقدس میں ہے جادو کے تعلق سے علماء کے مختلف اقوال ہیں بعض جادو ایسے ہوتے ہیں جس سے انسان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں شرکیہ الفاظ ہوتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپ نے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لیکر اپنی کرسی کے نیچے دفن کر دی حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکلوا کر لوگوں سے کہا کہ سلیمان علیہ السلام اس کے زور سے سلطنت کرتے تھے بنی اسرائیل کے علماء و صلحاء نے تو اس کا انکار کیا لیکن جاہل لوگ حضرت سلیمان علیہ السلام کا علم سمجھ کر اس کے سیکھنے میں مشغول ہو گئے اور انبیاء کی کتابیں چھوڑ دیں۔ قرآن مقدس میں ایک جگہ جادو کا تذکرہ اس طرح سے ہے کہ یکایک ان کی کرسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسیٰ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں۔ جادو کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو محض تخیل اور جس کا دار و مدار شعبدہ بازی اور ہاتھ کی صفائی پر ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو حقیقت میں جادو ہے اس کے ذریعہ شوہر اور بیوی میں جدائی ڈالی جاتی ہے اور لوگوں کو پریشان کیا جاتا ہے۔
بخاری اور مسلم میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک یہودی نے حضور اقدس ﷺ پر جادو کر دیا ایک دن کی بات ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے رب سے کئی مرتبہ دعا فرمائی پھر کہا اے عائشہ! تم جانتی ہو اللہ نے میری دعاء کو قبول کر لیا ہے میرے پاس دو آدمی آئے ایک سرہانے بیٹھا اور دوسرا پیر کی جانب ایک نے دوسرے سے کہا کونسی بیماری ہے جواب دیا جادو کا اثر ہے کس نے جادو کیا ہے جواب دیا لبید بن اعصم نے اس نے پوچھا کس چیز میں جواب دیا کنگھی کے بالوں اور کھجور کے کھوکھلے شگوفے میں پوچھا یہ کہاں ہیں؟ جواب دیا ذی اروان کے کنویں میں حضور ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کنویں پر پہنچے کنویں کا پانی مہدی آمیز تھا کھجور کا درخت ایسا لگتا تھا گویا شیطان کا سر ہو حضور ﷺ نے بال اور کھجور کا شگوفہ دفن کر دیا۔
پیادے دینی بھائیو! جادو کا انکار نہیں کیا جا سکتا ایسے جادو سے دور رہنا ضروری ہے جس سے ایمان کا خطرہ ہو۔
اَلسَّارِقُ وَ السَّارِقَۃُ فَاقْطَعُواْ اَیْدِیَہُمَا جَزَآئً بِمَا کَسَبَا نِکَالًا مِّنَ اللّٰہِ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہِ وَ اصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَحِیْمٌ(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
ترجمہ: چرانے والا مرد اور چرانے والی عورت ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ سزا ہے ان کے فعل کی اللہ کی طرف سے سرزنش ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے اور اگر ظلم کے بعد توبہ کر لے اور اپنی حالت درست کر لے تو بیشک اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
برادران اسلام چوری کرنا حرام ہے چور لوگوں کی نگاہوں سے گر جاتا ہے سماج اور معاشرہ میں اس کی کوئی عزت نہیں ہوتی اسلام میں چوری کرنے کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ چوری کرنا بہت ہی ذلیل کام ہے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فخر موجودات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ مدینہ منورہ آئے اور اپنی چادر کا تکیہ لگا کر مسجد میں سو گئے چورآیااور ان کی چادر چرا کر بھاگا انہوں نے اسے پکڑا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں حاضر کیا آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا صفوان نے عرض کیا میرا یہ مطلب نہ تھا یہ چادر اس پر صدقہ ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا میرے پاس حاضر کرنے سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چور پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے کہ بیضہ چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر کیا اور کہا کہ اس کا ہاتھ کاٹیے کیونکہ اس نے میری بیوی کا آئینہ چرایا ہے حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا کہ یہ تمہارا خادم ہے جس نے تمہارا مال لیا ہے۔
برادران اسلام! چوری بہت بری عادت ہے گناہ کبیرہ ہے حرام کام ہے اس سے بچنا ضروری ہے ورنہ عذاب الٰہی کا مستحق ہوگا۔