توبہ کے ساتھ ندامت کے آنسو
فَا للّٰہُ خَیْرٌ حٰفِظًا وَّہُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ (پارہ۱۳، رکوع۲)
ترجمہ: تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان۔
برادران اسلام ہم گنہگاروں کو اللہ عز و جل شانہ کی بارگاہ میں ندامت کے آنسو بہانے چاہئیں اگر گناہ پر نادم ہو کر عاجزی و انکساری کے ساتھ آنسو بہاتے ہوئے توبہ کریں تو بلا شبہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری توبہ قبول فرمائے گا۔
آقائے دو جہاں حضور سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا مغرب کی طرف ایک دروازہ ہے جس کی وسعت ستر سالہ یا چالیس سالہ راہ ہے اس دروازے کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے توبہ کے واسطے کھول دیا ہے یہ دروازہ جب سے زمین و آسمان پیدا کیے گئے ہیں کھلا ہے اور جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ کرے یہ کھلا رہے گا۔
سید الانبیاء حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عز و جل شانہ کو گناہ گار توبہ کرنے والے کی آواز سے زیادہ محبوب اور کوئی آواز نہیں جب وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو بلاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے میں موجود ہوں جو چاہے مانگ! میری بارگاہ میں تیرا رتبہ میرے بعض فرشتوں کے برابر ہے میں تیری دائیں بائیں اور اوپر ہوں اور تیرے دل کی دھڑکن سے زیادہ قریب ہوں اے فرشتو! تم گواہ ہو جاؤ کہ میں نے اسے بخش دیا۔
آقائے دوجہاں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی بندہ ایسا بھی ہوگا کہ وہ اپنے گناہ کے سبب بہشت میں جائے گا صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کس طرح ہوگا مصطفی جان برکت ﷺ نے فرمایا کہ جب بندہ گناہ کرکے پشیمان ہوتا ہے تو وہ ندامت بہشت میں داخل ہونے تک اس کے ساتھ رہتی ہے۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایسے توبہ کرنے والے کہ حق میں ابلیس کہتا ہے کہ کاش میں اس شخص کو گناہ میں مبتلا نہ کرتا۔
پیارے دینی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ گناہوں سے دور رہیں اگر کبھی ہم سے گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو فوراً آنسو بہاتے ہوئے صدق دل سے اس گناہ کو نہ کرنے کا عہد کریں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں انشاء اللہ اس ارحم الراحمین کی بارگاہ میں توبہ ضرور قبول ہوگی۔