توبہ و استغفار کے آداب
*انسان کو اللہ کی بار گاہ میں ہمیشہ توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہئے ،اپنے گناہوں سے معافی مانگتے رہنا چاہئے ۔
*حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سارے کے سارے انسان خطا کار ہیں ۔بہترین گنہ گار وہ ہے
جو بہت زیادہ توبہ کرنے والے ہیں ۔ (ترمذی)
*اپنے پروردگار سے معافی چاہو اور اس کے آگے توبہ کرو، بلا شبہ میرا رب بڑا ہی رحم فرمانے والا
اور بہت ہی محبت کرنے والا ہے (سورہ ہود)
*سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خدا ،اپنے بندے کی توبہ قبول کرتاہے مگر سانس اکھڑ نے سے پہلے(ترمذی)
* حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے لوگو! خدا سے اپنے گناہ کی معافی چاہو ، اور اس کی طرف پلٹ آؤمجھے دیکھو میں دن میں سو، سوبار خدا سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں ۔ (مسلم شریف)
*آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا ،رات کو ہاتھ پھیلا تا ہے ،تاکہ جس شخص نے دن میں کوئی گناہ کیا ہو وہ رات میں خدا کی طرف پلٹ آئے اور گناہوں سے معافی مانگے یہاں تک کہ سورج پچھم سے طلوع ہو۔ (مسلم شریف)
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے اس کے دل میں ایک کالا داغ پڑتا ہے ۔جب وہ گناہ سے توبہ کرتا ہے اور گناہ نہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے دل کو روشن کردیتا ہے ، (مسلم شریف )
*حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو استغفار کو لازم پکڑے اللہ تعالی اس کے لئے ہر تنگی میں آسانی فرمائے گا ، اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا ۔ (ابوداؤد شریف)
* نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس کا کوئی گناہ نہیں ہے ۔ ( طبرانی)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک جب بندہ گناہ کا اقرار کرے پھر توبہ کرے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔ (بخاری)
Post Views: 228