تعلیم یافتہ بھکاری

تعلیم یافتہ بھکاری
برادران ملت اسلامیہ ہمارے سماج کی اصلاح ضروری ہے ہمارے سماج سے
خرافات کو دور کرنا بہت ضروری ہے ۔ حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پتاہ چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے بھکاری موجود ہیں جو تالعلیم یافتہ ہیں کچھ بھکاری ایسے ہی گریجویٹ ہیں ۔ کچھ بھکاری ایسے نظر آئیں گے جو عالیشان مکان میں رہتے ہیں ، کچھ بھکاری ایسے ہیں جو ڈاکٹر ہیں، کچھ بکاری ایسے ہیں جو وکیل ہیں ، کچھ بھکاری ایسے ہیں جو بنکوں میں کام کرتے ہیں ۔ کچھ بھکاری ماروتی سے چلتے ہیں ۔ آپ کو تعجب ہورہا ہوگا آپ دل میں سوچ رہیں ہوں گے کہ آسی ؔ صاحب کیا بول رہے ہیں آپ کے دل میں خیال ہو گا کہ آسیؔصاحب کے بولنے کا مطلب کیا ہے ؟ تو سنو! میں واضح لفظوں میں بتا دینا چاہتا ہوں ، کھلے لفظوں میں بیان کردیان چاہتاہوں ، صاف صاف لفظوں میں کہ دینا چاہتا ہوں ۔ کہ ہمارے سماج کا تعلیم یافتہ وہ نوجوان جو اپنے ہونے والے سسر کے سامنے جہیز کے لئے اپنے دامن کو پھیلادیتا ہے وہ بھکاری ہے ۔ ہمارے سماج کا وہ ڈالٹر جو شادی کی پہلی شرط جہیز رکھتے ہیں وہ بھکاری ہے ۔ ہمارے سماج کا وہ بزنس مین اور تاجر جو بغیر جہیز کے شادی کرنے پر تیار نہیں ہوتے وہ بھکاری ہے ۔ ہمارے سماج کا وہ گریجویٹ جو بغیر جہیز کے شادی پر راضی نہیں ہوتا وہ بھکاری ہے اسکولوں اور کالج میں پڑھانے والا استاذ اگر جہیز کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ بھکاری ہے ۔ سماج میں ہر وہ نوجون جو جہیز کی مانگ کرئے وہ بھکاری ہے ۔ سماج کے نوجوانوں اگر تمہیں دولت چاہیے تو دست محنت سے حاصل کرؤ ۔ اگر تمہیں روپئے اور پیسے چاہیئے تو محنت مزدوری سے حاصل کرؤ۔ اگر تمہیں عیش وآرام چاہیئے تو شبو روز محنت کرؤ ۔ دوسرے کی دولت پر لالچ نہ کرؤ ۔ ورنہ تم میں اور بھکاریمیں فرق نہ ہوگا ۔ ورنہ تم میں ارو بھکاری میں امتیاز نہ ہوگا ۔ برادران اسلامیہ ہمارے سماج سے ایسے بھکاریوں سے پاک کرنا بہت ضروری ہے ۔ اپنے سماج سے ایسے بھکاریوں کو بھگانا بہت ضروری ہے ۔ اپنے سماج سے ایسے بھاریوں کا صفایا کرنا بہت ضروری ہے ۔ ورنہ غریب کی لڑکیا ں کنواری رہ جائیں گی اور یہ جہیز کے بھکاری ایسے شکار کی تلاش میں سرگرداں رہے گا۔