تارک السلطنت مخدوم سمناں علیہ الرحمہ کی مایہ نازتصنیفات
تصنیف وتالیف کاکام کس قدردشوار اورمشکل ترین ہے اس منزل کے مسافرہی صحیح رہنمائی کرسکتے ہیں۔ سفرکی پریشانیوں اورزادِ راہ کی قلت کے باوجود انمول تصنیفات کاگراں قدر سرمایہ دعوت فکردے رہاہے ۔اور آپ کی تصانیف کی لمبی فہرست ہے کم وبیش آپ نے چالیس کتابیں تصنیف فرمائیں ان میں سے کچھ کتابوں کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں ۔
(۱) کتاب کنز الاسرار۔معرفت و حقیقت پر ایک جامع تصنیف ہے ۔ اہل معرفت کے لئے مشعل راہ ہے ۔
(۲)قواعد العقائد۔آپ جب عرب تشریف لے گئے تو اہلِ عرب نے آپ کی توجہ عقائد کی طرف دلائی وہاں آپ نے کتاب ،قواعد العقائد، عربی زبان میں تصنیف فرمائی۔
(۳)بحر الاذکار۔یہ کتاب بھی آپ نے عرب کے سفر کے دوران تحریر فرمایا۔
(۴)اشرف الفوائد۔ بہت ہی کار آمد رسالہ ہے۔جب آپ تبلیغ کے لئے صوبۂ گجرات تشریف لے گئے وہاں تصنیف فرمائی۔
(۵) فوائد الاشرف۔ یہ رسالہ بھی اشرف الفوائد کے ساتھ تصنیف فرمایا تھا ۔
(۶)بشارۃ الاخوان۔پند و نصائح پر مبنی عوام الناس کے لئے ایک عمدہ کتاب ۔
(۷)مناقب خلفائے راشدین و فضائل اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
یہ رسالہ مناقب خلفائے راشدین و فضائل اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھا جس پر علمائے محمد آباد گوہنہ نے کثیر مناقبِ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے سبب اعتراض کیا تھا ۔
(۸)حجۃ الذاکرین۔یہ رسالہ بنگال میں تصنیف فرمایا۔ اس رسالہ میں پانچوں وقت نماز فرض کے بعد کلمہ طیبہ پڑھنے کے ثبوت کوقرآن واحادیث کی روشنی میں واضح فرمایا ہے ۔
(۹)فتاوائے اشرفیہ۔ یہ کتاب بزبان عربی محض بپاسِ خاطر حضرت نور العین تحریر فرمایا۔ اس کتاب میں مسائلِ فقہ کو بڑی بڑی کتابوں سے انتخاب کر کے تحریر فرمایا۔
(۱۰)تفسیرِ نور بخشیہ۔علم تفسیر میں یہ کتاب علم وحکمت کا خزانہ ہے اس میں تفسیر کے رموز واسرار موجود ہیں ۔
(۱۱) ارشاد الاخوان۔ اوراد و اشغالِ مشائخِ چشت اہلِ بہشت میں تصنیف فرمائی۔
(۱۲) بحثِ وحدۃ الوجود۔یہ رسالہ بحثِ وحدۃ الوجود میں لکھا، یہ ایک نایاب رسالہ ہے ۔
(۱۳)تجویزیہ ۔یہ رسالہ در جواز بر لعنِ یزید تحریر فرمایا اور موافقِ عقیدۂ صاحب شرحِ عقائد نسفی یزید پر لعنت اور فاسق کہنا جائزو ثابت کیا ۔
(۱۴)رسالہ غوثیہ۔یہ رسالہ ذکرِ مردان اہل خدمات، ابدال و اوتاد و اغواث، و اقطاب کے حالات پر مشتمل ہے ۔
(۱۵)رسالہ قبریہ ۔یہ رسالہ اپنی قبر شریف میں لکھا جس میں حالاتِ نزولِ ملائکہ کااظہار اپنے عقائدِ حقہ اور بشارتِ عالمِ غیب پر تحریر فرمایا ہے ۔