بھگوان کے لئے نہیں

بھگوان کے لئے نہیں
ملعون وسیم رضوی صفحہ ۱۲۰ پر لکھتا ہے،
’’ان مذہبی عمارتوں میں بجلی، پانی، اے سی، پنکھے، لائٹ بھی سائنس کا تحفہ ہے۔‘‘
ہاں تحفہ ہے اور بالکل ہے لیکن یہ تحفہ مندر میں آنے والوں کے لئے ہے بھگوان کے لئے نہیں۔ مسجد میں آنے والوں کے لئے ہے خدا کے لئے نہیں۔ گرجا گھر میں آنے والوں کے لئے ہے عیسیٰ مسیح کے لئے نہیں۔ لیکن یہ بات ملعون وسیم رضوی کی سمجھ سے بالاتر ہے۔
واقعہ معراج میں ملعون وسیم رضوی صفحہ ۱۲۳؍ پر لکھتا ہے کہ
’’خدا کا فرشتہ ان کو ایک مقدس جگہ لے جاکر ان کا سینہ چیر کر اس میں ایمان داخل کرتا ہے اگر اس میں ایمان تھا تو فرشتہ کو ایسا کرنے کی کیوں ضرورت پڑی؟‘‘
محترم قارئین! سب سے پہلے میں آپ کے سامنے حوالہ پیش کرتا ہوں۔
صحیح بخاری، جلد اول، صفحہ ۲۱۵ کتاب الصلوٰۃ، حدیث نمبر ۳۳۹
’’حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَيْتِي وَأَنَا بِمَکَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَائِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَائَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِکْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي ‘‘
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں مکہ میں تھا، میرے گھر کی چھت شق ہوئی پھر حضرت جبرئیل اُترے، میرا سینہ چیر کر اسے آب زمزم سے دھویا پھر ایک طشت سونے کا حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا لاکر میرے سینے میں ڈال دیا۔‘‘