بد مذہب اور کوا
معزز سامعین کرام انسان جس معیار کا ہوتا ہے اس کی پسند بھی اس طرح ہوتی ہے ، اگر انسان پاکیزہ طبیعت کاہے تو وہ عمدہ اور پاکیزہ چیز کو پسند کرے گا ، انسان اگر مذموم خصلت کا ہوگا تو خراب چیز کو پسند کرے گا ۔ اگر کوئی شرابی ہے تو دودھ سے زیادہ شراب کو پسند کرے گا ۔ اگر آپ بد مذہبوںکی خصلت کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ان کے نزدیک اگر انگلی میں نجاست لگ جائے تو چاٹ لینے سے پاک ہوگا تو پھر وہ کوا کھانا کیوں نہیں پسند نہ کرے گا ۔
ابن ماجہ شریف میں ہے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھماسے مروی ہے { من یاکل الغراب قد سماہ رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فاسقاً واللّٰہ ماھو من الطیبات }کوا کون کھائے گا رسول اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کا نام فاسق رکھا ہے ۔خدا کی قسم وہ پاک چیز وں سے نہیں ہے ۔
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوے کانام فاسق رکھا ، بردران ملت فاسق کون پسند کرے گا جو فاسق ہوگا وہی پسند کرے گا دیوبندیوںنے اپنی زبان کے مزہ کو بگاڑ لیا ۔ گوشت اور شوربا سے کھانے کی عادت بنالی ، جب حلال پرندہ ہاتھ نہ آیا تو حرام پرندے کو ہی کھانا شروع کردیا اسی لئے تو اعلی حضرت امام احمد رضاؔ ارشاد فرماتے ہیں
پڑی ہے اندھوں کو عادت کہ شوربے ہی سے کھائے
بیٹر ہا تھ نہ آئی تو زاغ لے کے چلے !
جو دین کوؤں کو دے بیٹھے ان کو یکساں ہے
کلاغ کے کے چلے یا الاغ لے کے چلے
Post Views: 25