بد مذہبوں کی بے شرمی

بد مذہبوں کی بے شرمی
سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ، {لانبی بعدی } یعنی  میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا ، میرے بعد کسی نبی کا وجود نہ ہوگا ، میرے بعد کسی نبی کا آنا نہ ہوگا ، میرے بعد کوئی بنی تشریف نہیں لائیں گے ، میرے بعدکسی نبی کا آنا محال ہے ، میرے بعد کسی نبی کا آنا نا ممکن ہے ، میرے بعد کسی نبی کا آنا مشکل ہے ، رسول اللہ کی بات پتھر کی لکیر ہے ، نبی کی زبان سے نکلی ہوئی بات حرف آخر ہے ۔ سورج اپنا راستہ بدل سکتا ہے ، چاند اپنا رخ بدل سکتا ہے ، زمین اپنی جگہ سے ہل سکتی ہے ، پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل سکتا ہے ، لیل ونہار کی گردش رُک سکتی ہے ، دریا کی طغیانی اپنا رُخ بدل سکتی ہے لیکن رسول اللہ کی زبان سے نکلی ہوئی بات نہیں بدل سکتی ، بنی کی زبان سے نکلا ہوا کلام بدل نہیں سکتا ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے{ اذا لم یعرف ان محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم اخر الانبیائٍ فلیس بِمسلم } جو شخص سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ مانے وہ کافر ہے ۔ قرآن سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی آخری نبی ، اقوال فقہاء سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی آخری نبی ہیں ، اجماع امت سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی آخری نبی ہیں اس کے باوجود بدمذہب یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آخری نبی نہیں ہیں، اس کے بعدبھی نبی کا آنا ہے ،اس کے بعد بھی نبی آ سکتے ہیں ، اپنے آپ کو امت رسول بھی کہلاتے ہیں قرآن کی مخالفت بھی کرتے ہیں ، اپنے آپ کو امت رسول بھی کہلاتے ہیں حدیث کی مخالفت بھی کرتے ہیں ، اپنے آپ کو امت رسول بھی کہلاتے ہیں اجماع امت کی مخالفت بھی کرتے ہیں ، اپنے آپ کو امت ِ رسول بھی کہلاتے ہیں اقوال فقہا کی مخالفت بھی کرتے ہیں ۔ یہ دیوبندی وہابی بے شرمی کے لبادے اوڑھے ہوئے نظر آتے ہیں اس سے زیادہ بے شرم و بے حیا اور کون ہوسکتا ہے کہ اپنے آپ کو امت محمدیہ کہلاتا ہے ذکر رسول سے دور بھاگتا ہے ، اپنے آپ کو امت رسول اللہ کہلاتا ہے اورتعظیم نبی سے انکار کرتا ہے اسی لئے تو امام احمد رضا فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں ۔
ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مردود کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی