بدصورت کون؟

بدصورت کون؟
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۱۲۹ پر لکھتا ہے کہ
’’حدیث کے مطابق محمد دیکھنے میں بد صورت تھے۔‘‘
معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! اس سے بڑا جھوٹا شاید ہی کوئی ہوگا۔ حدیث کی بات کرتا ہے مگر حوالہ نہیں دیتا۔ اس لئے کہ حدیث میں ایسا ہے ہی نہیں۔ حضور اقدس ﷺ کتنے خوبصورت حسین و جمیل تھے اس پر سینکڑوں احادیث پیش کی جاسکتی ہیں۔ بطور ثبوت چند احادیث پیش کرتا ہوں تا کہ ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ ثابت ہو جائے۔
صحیح بخاری جلد دوم کتاب الانبیا، صفحہ ۳۴۱، حدیث نمبر۷۶۳،
’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ میانہ قد تھے۔ میں نے آپ کو سرخ حُلے میں ملبوس دیکھا اور ہرگز کسی کو آپ سے زیادہ حسین و جمیل نہیں دیکھا۔‘‘
بخاری شریف جلد دوم، صفحہ ۳۴۱، حدیث نمبر ۷۶۴ ،کتاب الانبیاء،
’’حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ حضور اقدس ﷺ کا چہرئہ انور کیا تلوار کی طرح چمکدار تھا؟ آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ چاند کی طرح چمکتا تھا۔‘‘
جامع ترمذی جلد دوم، ابواب المناقب، صفحہ ۶۸۳/۶۸۴ حدیث نمبر ۱۵۸۲
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نےرسول اکرم ﷺ سے زیادہ حسین کوئی چیز نہیںدیکھی، گویا آپ کے چہرے پر سورج تیر رہا ہو۔‘‘
عرب کے مشہور شاعر حسان بن ثابت لکھتے ہیں کہ
واحسن منک لم ترقط عینی
واجمل منک لم تلدالنساء
ترجمہ :یا رسول اللہ !آپ سے زیادہ حسین میری آنکھوں نے نہیں دیکھا۔ آپ سے زیادہ خوبصورت کسی عورت نے کسی کو جنا ہی نہیں ۔
اب قارئین خود فیصلہ کریں کہ مذکورہ بالا احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں کہ میرے نبی کریم ﷺ نہایت حسین و جمیل تھے اور ملعون وسیم رضوی نہایت ہی ذلیل اور جھوٹا ہے۔