ایمان چرانے میں ماہر
آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یہاں وہ چور بلاکے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
سنی بھائیو!اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے { اتخذوا ایمانھمجنۃ فصدوا عن سبیل اللہ فلھم عذاب مھین } وہ قسموں کو ڈھال بناکر اللہ کی راہ سے روکتے ہیں یقینا ان کے لئے ذلیل و خوار والا عذاب ہے ۔ اللہ تبارک وتعالی کی راہ سے روکتے ہیں یعنی راہ راست سے ہٹا تا ہے وہ بھی ایسے نہیں قسمیں دے کر قسمیں کھا کر تاکہ ان کو یقین ہو جائے کہ یہ سچ بولتا ہے ، بد مذہب بھولے بھالے سنی مسلمانوں کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں چلئے بھائی چلہ میں وہاں اللہ و رسول کی باتیں ہوگی ۔ جب سنی بھائی وہاں جاتے ہیں تو کسی ماہر چور کی طرح ان کا ایمان اس طرح چھینتا ہے دیکھو بھائی رسول تو ہماری طرح بشر ہیں ، ان کی تعظیم نہیں کرنا چاہیے ۔ اگر کرنا بھی تو بس بڑے بھائی کی طرح ، رسول زندہ کہاں ہیں وہ تو مر کر مٹی میں مل گئے ہیں۔ رسول کو علم غیب تھا ہی نہیں ۔ اگر رسول کے لئے علم غیب مانیں گے تو خدا کے برابر ٹھہرے گا اور یہ شرک ہوگا ، ارے بھائی ذکر رسول سے کیا فائدہ نماز کی باتیں کریں ، دین کی باتیں کریں ۔ دیوبندی اس طرح کی قسمیں کھا کر باتیں کرے گا تاکہ سنی مسلما ن اس کی باتوں میں آجائے ، شاطر چور کی طرح جو آنکھوں سے کاجل چرا لیتے ہیں اسی طرح دیوبندی سنی مسلمانوں کا ایمان چرا لیتا ہے ، ایسے ماہر چور سے دور رہنا بہت ضروری ہے ۔ اگر ہم کہیں سفر میں جاتے ہیں اور کوئی چور ہمارے مال واسباب کے پیچھے لگ جاتا ہے تو ہم ہوشیار رہتے ہیں بیدار رہتے ہیں ، ایمان تو سب سے بڑی دولت ہے یہ دنیا تو مسافر خانہ ہے ۔ اگر ہمارے ایمان کی دولت لُٹ گئی تو ہم برباد ہو جائیں گے آخرت میں کیا لے جائیں گے بغیر ایمان کے تو روزہ ، نماز ، عبادت سب بے کار ہے اسی لئے ایسے چور سے دور رہنا چاہتے ہیں ، ان کی قسموں کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے ۔ حدیث شریف میں آیا ہے { فایاکم وایاھم لایضلوفکم ولا یفتونکم } ان سے دوربھا گو اور انہیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں اسی لئے اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی فرماتے ہیں ۔
یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مت کیسی متوالی ہے
Post Views: 18