اولــیاء اللہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَ سَیِّدَنَا وَمَوْلٰنَا مُحَمَّدًا
صَلیّ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَ سَلَّم عَلَی العٰلمِیْنَ
جَمیِعْا ً اَقَامَہ یَوْمَ القِیَامَۃِ لِلمُذْنَبِیْنَ المتَلَوّثَینَ
الخطّائین الھَالکین شفیعاً امَّابَعد۔ فَقَدْ قَا لَ
اللّٰہُ تَعَالیٰ فَیْ القُرآنِ المَجِید۔ اَعُوذُبِاللّٰہِ مِنَ
الشِطْانِ الرَّجِیمُ اَلآاِنَّ اَوْلَیَآئَ اَللّٰہِ لَاخَوْف
عَلَیھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْن صَدَقَ اللّٰہ الْعَظِیْم
بَلَّغَنَا رَسُولَہُ النّبَی الْکَرِ یْم
محترم حاضران مجلس ہر مقرر ہر واعظ خطبہ مسنونہ کے بعد کسی نہ کسی آیت کریمہ یا حدیث پاک کو عنوان ِ سخن بنایا کرتا ہے اسی قانون اور ضابطے کے تحت میں نے بھی قرآن مقدس کی ایک مشہور و معروف آیت کریمہ تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ہے اور اسی آیت کریمہ کو عنوان سخن بنایا ہے اس آیت کریمہ کے معنیٰ و مطلب بیان کرنے سے پہلے ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ اور ہم مل کر سید المرسلین طٰہٰ یٰسن ، غریبوں کا سہارا ، یتیموں کا ماویٰ سید ابرار و اخیار مدنی تاجدار ، سیاح لامکاں ، مالک دوجہاں ، احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار گہر بار میں عقیدت و محبت کے ساتھ درودشریف کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کریں ۔
{ اَللّٰھُمَّ صَلی عَلیٰ سَیْدِنَا مولنا محمدٍ بارک وسلم صلاۃ و سلاماًعیک یا رسول اللہ}
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کو ادارت ہو تو دیکھ اس کو
یدِ بیضا لئے ہوئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
نگاہ ولی میں یہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
محترم سامعین کرام ابھی ابھی میں نے قرآن مقدس کی جو آیت کریمہ تلاوت کی ہے{ اَلآاِنَّ اَوْلَیَآئَ اَللّٰہِ لَاخَوْف عَلَیھِمْ وَلَاھُم ْیَحْزَنُوْن } خبردارہو جاؤ جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں نہ انہیں کوئی خوف ہے نہ کوئی غم اس لئے کہ جو اللہ کے ولی ہو تے ہیں اسے اللہ کی رضا حاصل ہو جاتی ہے اور اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے ، اللہ کی رضا سب سے بڑی دولت ہے ، اللہ کی رضا سب سے بڑی طاقت ہے ، اللہ کی رضا سب سے بڑی قوت ہے ، اللہ کی رضاسب سے بڑی عظمت ہے ، اللہ کی رضا سب سے بڑی رفعت ہے ، اللہ کی رضا سن سے بڑی معراج انسانیت ہے اور اولیاء اللہ کو رضائے الہیٰ حاصل ہے ۔ جو اللہ کے ولی ہو تے ہیں کسی سے نہیں ڈرتے، جو اللہ کے ولی ہو تے ہے وہ شہنشاہ وقت سے نہیں ڈرتے، جو اللہ کے ولی ہوتے ہیںوہ کسی طاقت ور سے نہیں ڈرتے ،جو اللہ کے ولی ہوتے ہیںوہ جابر سے نہیں ڈرتے ، جو اللہ کے ولی ہوتے ہیںکسی درندے سے نہیں ڈرتے ہے ، جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں سانپ اور اژدھا سے نہیں ڈرتے ، جو اللہ کے ولی ہوتے ہیںکسی شیر اور چیتا سے نہیں ڈرتے ،جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں دریا کی طغیانی سے نہیں ڈرتے،جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں آندھی اور طوفان سے نہیں ڈرتے۔ اس لئے کہ جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں وہ اللہ سے ڈرتے ہیں دنیا کی کسی چیز سے نہیں ڈرتے بلکہ دنیا کی ہر چیز اللہ کے ولی سے ڈرتی ہے ۔
Post Views: 26