انگریزی کا من گھڑت مضمون

انگریزی کا من گھڑت مضمون
قارئین! صحیح بخاری کے حوالے اور سیرت ابن ہشام کے حوالے سے واضح ہوگیا کہ ملعون وسیم رضوی کی باتیں جھوٹی ہیں۔ اس نے اپنی جھوٹی باتیں ایک انگریزی مضمون جس کا عنوان ہے ’’عائشہ احمد‘‘ اس سے متاثر ہوکر لکھا ہے۔ جب وہ مضمون جھوٹ پر منحصر ہے تو ملعون وسیم رضوی نے بھی اسی جھوٹی بنیاد پر جھوٹ کا قلعہ کھڑا کردیا۔ آپ بھی مضمون کو ملاحظہ کریں۔ ملعون وسیم رضوی کتاب کے صفحہ ۶۳ پر لکھتا ہے۔
’’یہ مضمون ’’عائشہ احمد‘‘ انگریزی مضمون پر منحصر ہے۔ پورے قبیلے کے مردوں کو مار کر مال و اسباب اور عورتوں کی عزت لوٹنے کے بعد جب محمد کو یہ بتایا گیا کہ ’’صفیہ‘‘ نام کی تیز طرار جوان عورت کو کوئی اور اپنے ساتھ لے جا رہا ہے جو آپ کے قابل ہے تو کسی اور کو صفیہ کے لے جانے کا حکم بدل دیا گیا اور صفیہ حرم میں شامل ہوگئی۔ صفیہ نے کھانے میں زہر ملا دیا جس سے محمد کی ایسی طبیعت بگڑی کہ جبرئیل سے لے کر اللہ کے تمام فرشتے تمام حکیم وجنات جھاڑ پھونک کرنے والے ہار گئے اور صفیہ نادان سی ہوکر کہتی رہی اگر تم سچے پیغمبر ہو تو زہر سے نہیں مرو گے اگر جھوٹے ہو تو میرے گھر والوں کے قتل کا بدلہ تمہاری موت سے ہی ہوسکتا ہے۔‘‘
یہ ہے وہ جھوٹا مضمون جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پورا مضمون جھوٹ پرمبنی ہے۔ اسی جھوٹ کے سمندر میں ملعون وسیم رضوی نے غوطہ لگا کر جھوٹ کی بارش برسا ئی ہے۔
صحیح بخاری کے حوالے اور سیرت ابن ہشام کے حوالے سے اس انگریزی مضمون کا جنازہ نکل گیا۔
اب میں اس حدیث کی روشنی میں ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ شمار کراتا ہوں۔
جھوٹ نمبر ۱:
زہر دینے والی کا نام صفیہ نہیں بلکہ زینب بنت حارث ہے جو سلام بن مشکم کی بیوی تھی۔
جھوٹ نمبر۲:
زہر خورانی کے بعد حضور ﷺ نے کسی سے نہ علاج کرایا نہ جھاڑ پھونک کرایا۔
جھوٹ نمبر ۳:
زہر دینے والی حضور کی بیو ی نہیں تھی۔
جھوٹ نمبر ۴:
ام المومنین حضرت صفیہ کے گھر والے زندہ تھے اور آپ کے والد حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے۔
جھوٹ نمبر ۵:
صفیہ نادان سی ہوکر کہتی رہی۔
جھوٹ نمبر۶:
پیغمبر ہو تو مروگے نہیں۔
جھوٹ نمبر ۷:
قتل کا بدلہ تمہاری موت سے ہی ہوسکتا ہے۔
یہ تمام باتیں بخاری اور سیرت ابن ہشام کے حوالے سے جھوٹی ثابت ہو گئیں۔