انسان کی پیدائش
وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطُفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجًا (پارہ۲۲، رکوع۱۴)
ترجمہ: اور اللہ نے تمہیں بنایا ہے مٹی سے پھر پانی کی بوند سے اور پھر تمہیں کیا جوڑے جوڑے۔
برادران اسلام انسان کی افزائش نسل کا واقعہ قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو کن کن مراحل سے گزار کر اس دنیا میں بھیجا قرآن ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہم اپنی تخلیق پر غور کریں اور اپنے خالق کا اقرار کریں اپنے آپ پر فخر نہ کریں جیسا کہ سورۂ انفطار میں ہے ’’اے انسان کس چیز نے تجھے اپنے کریم رب سے فریب دیا جس نے تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا پھر ہموار فرمایا جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دیا‘‘ سورہ نحل میں ہے ’’اس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسنان کو منی سے پید ا کیا سورۂ قیامہ میں ہے ’’کیا وہ حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا ‘‘ سورہ مومنون میں ارشاد ربانی ہے ’’پھر آدمی کو ایک محفوظ جگہ ٹیکی ہوئی بوند میں تبدیل کر دیا‘‘ سورۂ دہر میں ہے ’’ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفہ سے پیدا کیا‘‘ سورہ حج میں ہے ’’ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک خاص وقت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں‘‘ سورۃ علق میں ہے ’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے‘‘ سورہ مومنون میں ہے ’’پھر ہم نے لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا‘‘ سورۃ قیامہ میں ہے ’’کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو ٹپکایا جانا پھر وہ ایک لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضاء درست کیے‘‘ سورہ زمر میں ہے ’’وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے‘‘ سورہ مومنون میں ہے ’’ہم نے تم کو بنایا خون کے لوتھڑے سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی۔‘‘
سورہ سجدہ میں ہے ’’اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں، اور دل دیا‘‘ سورہ النجم میں ہے ’’اور اس نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے‘‘ سورہ فاطر میں اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہارے جوڑے بنا دیے‘‘ یعنی مرد اور عورت کی شکل میں تبدیل کر دیا۔
پیارے دینی بھائیو! اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسنان کی تخلیق کا ذکر کرکے اپنی قدرت کاملہ کا برملا اظہار فرمایا ہے۔