انتباہ
برادران ملت اسلامیہ جو خرق عادات اولیاء اللہ سے صادر ہو تو وہ کرامت کہلاتی ہے اگر وہی کسی کافر اور مشرک سے صادر ہو تو استدراج کہلاتا ہے اسی لئے ولی کیلئے یہ شرط نہیں ہے کہ اس سے کرامت صادر ہی ہو اگر اس سے صادر ہو جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مہربانی ہے بلکہ ولی کی شان تو یہ ہے کہ اپنی زندگی کو سنت مصطفی پر ڈھال دے کیونکہ یہ کسی کافرمشرک سے نہیں ہو سکتا۔ ایک مرتبہ حضرت رابعہ بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہا دریا کے کنارے سے جارہی تھیں ۔ایک اللہ کے ولی اپنی کرامت دیکھانے کے لئے دریا پرمصلیٰ بچھا کر نماز ادا کرنے لگے ۔ حضرت رابعہ بصری رضی اللہ عنہا بھی ولیہ تھیں ۔ آپ نے اس ولی کے سر کے اوپر فضاء میں اپنا مصلیٰ بچھا کر نماز ادا کرنے لگیں ۔ اس ولی کو بہت تعجب ہوا کہنے لگا کہ آپ کون ہیں ؟ حضرت رابعہ بصری رضی اللہ عنہا عاجزی وانکساری سے کہنے لگی میںاللہ کی ایک بندی ہوں لیکن تم نے جو کرکے دیکھایا وہ ایک مچھلی بھی کرسکتی ہے یعنی پانی پر تیر سکتی ہے جومیں نے کی وہ ایک پرندہ بھی کر سکتا ہے یعنی فضا میں معلق رہ سکتا ہے ۔ ہم کو ایسا کام کرنا چاہیئے جو نہ مچھلی کرسکے نہ پرندہ کرسکے نہ درندہ کرسکے ، نہ چرند کرسکے وہ ہے سنت مصطفی پر زندگی گزارنا اور دین محمدی کی تبلیغ کرنا اس لئے کہ مچھلی سنت رسول پر نہیں چل سکتی چرندے سنت رسول پر نہیں چل سکتے ، پرندے سنت رسول پر عمل نہیں کر سکتے لہٰذا سنت رسول پر عمل کرنا ہی معراج انسانیت ہے ۔
Post Views: 35