ام المومنین حضرت عائشہ کی شادی

ام المومنین حضرت عائشہ کی شادی
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی شادی کو لے کر ملعون وسیم رضوی نے اپنی کتاب کے صفحہ ۶۴ پر حضرت عائشہ کی شادی کا ذکر کیا اور کئی صفحات سیاہ کر دیے۔ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر کیا تھی، رخصتی کے وقت ان کی عمر کیا تھی؟ اپنی پوری طاقت اسی میں جھونک دی۔ مستشرقین کا حوالہ، صحیح بخاری کا حوالہ، طبقات ابن سعد کا حوالہ، برٹش مؤرخ ویلیم مونٹ گومیری کے خیالات، ڈینس اسپیل برگ کا نظریہ، احمدیہ اندولن کے عالم محمد علی کا اندازہ بڑے طمطراق سے بیان کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ شادی کے وقت ان کی عمر ۵؍سال اور رخصتی کے وقت عمر ۹؍سال تھی اور اسی عمر کو لے کر ملعون وسیم رضوی نے گلے میں ڈھول لٹکا کر ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیا اور اپنی کتاب کے صفحہ ۷۰ پر معاذ اللہ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم پر پیڈوفیلیا ہونے کا الزام لگایا۔ اپنی کتاب کے صفحہ ۷۳ پر لکھتا ہے کہ
’’انسانی علم الحیات پچھلے دو لاکھ سالوں سے بدل نہیں گئی ہے۔ چاہے کوئی بھی نسل یا آب و ہوا ہو، سبھی لڑکیاں ۱۳؍ سال کی عمر میں بلوغت کو پہونچ جاتی ہیں۔ ایک ۹؍سال کی بچی افریقہ، الاسکا یا عرب میں بچی ہی ہے۔‘‘
اس طرح کی لایعنی باتوں سے کئی صفحات خراب کر دیے۔
اب آئیے! اس پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں۔ اب میں احادیث، تواریخ، میڈیکل، فقہ اور حالات حاضرہ کے مشاہدات کی روشنی میں ملعون وسیم رضوی کو دندان شکن جواب دیتا ہوں تاکہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی پر انگلی اُٹھانے کی گنجائش باقی نہ رہے۔
حضرت ام المومنین کے نکاح اور رخصتی کی عمر حدیث کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔
صحیح بخاری، جلد سوم، صفحہ ۸۲، کتاب النکاح، حدیث نمبر ۱۴۴
’’حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَبَنَی بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ وَمَکَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا‘‘
ترجمہ: ’’عروہ کا بیان ہے حضور اقدس ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کیا تو وہ ۶؍ سال کی تھیں جب ان کے ساتھ خلوت فرمائی تو وہ ۹؍ سال کی تھیں اور وہ ۹؍سال آپ کی خدمت میں رہیں۔‘‘
نبی کریم ﷺ کے یہاں جب رخصت ہو کر آئیں وہ حدیث بھی ملاحظہ کریں۔
صحیح بخاری، جلد سوم، صفحہ ۸۳، کتاب النکاح، حدیث نمبر ۱۴۶
’’حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَائِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْنِي أُمِّي فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًی‘‘
ترجمہ: ’’ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے مجھے اپنی زوجیت کا شرف بخشا میری والدہ محترمہ مجھے لے کر آپ کے کاشانہ اقدس میں داخل ہوئیں میرے لیے گھبرانے کی بات یہی تھی کہ رسول اللہ ﷺچاشت کے وقت تشریف لائے۔‘‘
طبقات ابن سعد، جلد ۸، صفحہ ۸۲
’’ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے اعلان نبوت کے ۱۰؍ سال بعد اور ہجرت سے ۳؍سال قبل نکاح کیا۔ میں اس وقت چھ برس کی تھی پھر آپ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اور ہجرت کے آٹھویں مہینے میں میری رخصتی ہوئی میں اس وقت ۹؍سال کی تھی۔‘‘
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر رخصتی کے وقت ۹؍سال تسلیم کرتے ہوئے اپنی تحقیقات پیش کرتا ہوں۔ جب لڑکیاں ۹؍سال کی ہو جاتی ہیں تو وہ شرعاً مشتہات اور بالغہ ہو جاتی ہیں جیسا کہ فقہ کی مشہور کتاب فتاویٰ قاضی خان جلد اول کتاب النکاح باب فی المحرمات، صفحہ ۱۶۷ میں ہے۔
’’ابنۃ خمس سنین لم تبلغ واما ابنۃ ست او سبع او ثمانی ان کانت عبلتہ ضخمۃ فقد بلغت حد الشھوۃ‘‘
ترجمہ: ’’پانچ سال کی لڑکی حد شہوت کو نہیں پہنچتی، چھ سال یا سات سال یا آٹھ سال یا اس سے اوپر وہ حد شہوت کو پہنچ جاتی ہے۔‘‘