امام حسین
برادران اسلام آپ تاریخِ کربلا کا مطالعہ کیجئے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ امام حسین نے کس کے سامنے حق بات کہی ۔امام حسین نے کس کے ساتھ جہاد کی بات کیا، امام حسین نے حق کے لئے اپنی جان کی قر بانی پیش کردی ،امام حسین نے حق بات کے لئے اپنی اولاد کی قربانی پیش کردی ، امام حسین نے حق بات کے لئے دوست واحباب کی قر بانی پیش کردی ، امام حسین نے حق بات کے لئے جوان بیٹوں کی قربانی پیش کردی ، امام حسین نے حق بات کے لئے ننھے معصوم بچوں کی قربانی پیش کردی ۔ اگر امام حسین یزید کے ہاتھوں پر بیعت کر لیتے تو دولت امام حسین کے قدموں میں ہوتی ، اگر امام حسین یزید کے ہاتھوں پر بیعت کر لیتے توہزاروں لشکر و سپاہ آپ کے قبضے میں ہوتے ، اگر امام حسین یزید کے ہاتھوں پر بیعت کر لیتے تو دنیا کا عیش وآرام آپ کے قد موں میں ہوتا۔ برادران اسلام امام حسین سے یہ مطالبہ نہیں کیا جارہا تھا کہ اپنے ناناجان کا کلمہ پڑھنا چھوڑ دو ، امام حسین سے یہ مطالبہ نہیں کیا جارہا تھا کہ نماز پڑھنا چھوڑ دو ، امام حسین سے یہ مطالبہ نہیں کیا جارہا تھا کہ تلاوت قرآن چھوڑ دو ، امام حسین سے یہ مطالبہ نہیں کیا جارہا تھا کہ خانہ کعبہ کا حج کر نا چھوڑ دو ، امام حسین سے یہ مطالبہ نہیں کیا جارہا تھا کہ اپنے نانا کہ روضہ اقدس پر حاضری دینا چھوڑ دو ، امام حسین سے یہ مطالبہ نہیں کیا جارہا تھا کہ اپنے نانا کہ مقدس شہر کو چھوڑ دو ، بلکہ امام حسین سے صرف اور صرف اس با ت کا مطالبہ کیا جارہا تھا کہ فاسق کے ہاتھ پر بیعت ہو جاؤ اور تمام لو گوں کو فاسق کے ہاتھ پر بیعت ہو جانے دو ۔ امام حسین حق بات کہنے سے کیسے چپ رہ سکتے تھے امام حسین کو معلوم تھا فاسق کے ہاتھ پر بیعت ہو جانا حق کو چھپانا ہے ،اسی لئے امام حسین اپنی جان کی قربانی دیکر حق بات کو بلند کر کے رہے ۔ امام حسین اپنی اولادوں کی قربانی دے کر حق کے پر چم کو بلند کئے ، امام حسین دنیا کے عیش و آرام کو ٹھکرا دئیے لیکن حق بات کہنے سے خاموش نہ رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا آج تک امام حسین کو یاد کرتی ہے اور انشاء اللہ قیامت تک یاد کرتی رہے گی۔
برادران اسلام آپ کبھی حق بات کہنے سے پیچھے نہ ہٹیں چاہے آپ کی جان چلے جائے کیونکہ حق بات کہنا بھی جہاد ہے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس کا ایمان پختہ ہوتا ہے وہ حق بات کہنے سے کبھی نہیں ڈرتا ، کسی حاکم کے سامنے حق بات کہنے سے کبھی نہیں ڈرتااس لئے کہ پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا سب سے بہترین جہاد ہے ۔ لہذا آپ بھی اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے حق بات کہنے خاموش نہ رہیں ۔
مرد حق باطل کے آگے مات کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ حق بولنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین
Post Views: 43