اللہ تعالیٰ کی خوشنودی
اللہ تبارک و تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے بہت خوش ہوتا ہے ۔ روایت میں آیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے خوش ہوتا ہے جیسا کہ کوئی مسافر کسی سواری سے بیابان میں سفر کررہا ہو اور وہ سواری روک کر آرام کرنے لگا اور اس کی سواری غائب ہوگئی پھر تھوڑی دیر بعد اس کی سواری مل گئی تو مسافر خوش ہو جاتا ہے اسی طرح اللہ تبارک وتعالی توبہ کرنے والوں سے خوش ہوتا ہے ۔ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ۔ {التَّائِبُ حَبِیْبُ اللّٰہِ} اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے پیارے حبیب سے فرماتا ہے ’’ اے میرے حبیب تمہاری امت کے متقیوں کو ڈراؤ اور گناہگاروں کو خوش خبری دو کیونکہ اگر میں تمہاری امت کے متقیوں سے حساب لینے لگوں تو میری دی ہوئی نعمتوں کا حساب نہ دے سکے گا اس لئے میرے انصاف سے جہنم میں چلا جائے گا مگر میں اپنی رحمت سے اسے جنت میں بھیج دوں گا۔اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں
کیا یہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ
قرض لیتی ہے گنہ پرہیز گاری واہ واہ
کوئی صرف اپنے عمل سے جنت میں نہیں جاسکتا ، ہر ایک کو میری رحمت کی ضرورت ہے اور آپ کی امت کے گنا ہگار اپنے گناہ کی معافی مانگ کر توبہ کرتا ہے تو میں بہت خوش ہوتا ہوں اوراسے بخش دیتا ہوں بلکہ اس کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہوں کیونکہ توبہ کرنے والا مجھے بہت پسند ہے‘‘
برادران اسلام ! توبہ بہت بڑی نعمت ہے توبہ سے دور رہنے والا بدبخت ہوتا ہے بعض وقت توبہ کرنے والے کے گناہ کو معاف کرکے اسے ولی بنا دیا جاتا ہے۔
Post Views: 33