اغلام بازی اسلام میں حرام
سورہ نساء، آیت نمبر ۲۲۳،
’’نساءکم حرث لکم فاتواحرثکم آنی شئتم‘‘
ترجمہ: ’’تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں تو آئو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو۔‘‘
تفسیر کبیر میں ہے، اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ عرب کے یہودی کہتے تھے جو کوئی اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے کی جانب سے آگے کے مقام میں صحبت کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوگا اور عام اہل عرب کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! میں تو ہلاک ہوگیا کہ میں پیچھے کی جانب سے آگے کے مقام پر جماع کرتا ہوں۔ پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں یہ حکم ہے کہ ہر جانب سے صحبت کی اجازت دی گئی ہے بشرطیکہ وہ آگے کا ہی مقام ہو۔
اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی افزائش نسل کا ذریعہ ہیں ظاہر سی بات ہے کہ آگے کا مقام ہی کھیتی ہے نہ کہ پیچھے کا۔ اس آیت سے ثابت ہوگیا کہ پیچھے کے مقام میں مباشرت جائزنہیں البتہ پیچھے کی جانب سے آگے کے مقام پر مباشرت کرسکتے ہیں۔
ملعون وسیم رضوی نے بڑی زور دار سرخی لگا دی ’’بیوی کے ساتھ اغلام بازی حلال ہے۔‘‘ جب کہ اس کے مطلب کو وہ سمجھا ہی نہیں۔ اب آئیے ابن عمر کے تعلق سے حدیث آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
الدرالمنثور، جلد۱، صفحہ ۶۳۵
اخرج النسائی والطبرانی و ابن مردویہ عن ابی النضر انہ قال لنافع مولی ابن عمر انہ قد اکثر علیک القول انک تقول عن ابن عمر انہ افتی ان یوتی النساء فی ادبار ھن قال کذبو اعلی‘‘
ترجمہ: ’’ابن مردویہ روایت کرتے ہیں ابوالنضر سے کہ انہوں نے نافع سے کہا جو ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں آپ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ابن عمر نے یہ فتویٰ دیا کہ عورتوں کے پیچھے سے مباشرت کرسکتے ہو۔ تو نافع نے جواب دیا کہ لوگوں نے مجھ پر جھوٹا الزام باندھا۔‘‘
الدرالمنثور، جلد1، صفحہ۶۳۷
فان الحارث بن یعقوب یروی عن ابی الحباب سعید بن یسار انہ سال ابن عمر فقال یا ابا عبدالرحمن انا نشتری الجواری افنحمض لھن قال وما التحمیض فذکرلہ الدبر فقال ابن عمر اف اف ایفعل ذلک مسلم؟
ترجمہ: ’’سعید بن یسار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سوال کیا ابن عمر سے اے عبدالرحمن (ابن عمر کی کنیت) ہم باندی خریدتے ہیں تاکہ تحمیض کرسکیں۔ ابن عمر نے کہا کہ یہ تحمیض کیا ہے؟ تو انہوں نے پیچھے کے مقام کا ذکر کیا توابن عمر نے کہا اف اف ایفعل ذلک مسلم؟ افسوس ہے افسوس ہے کیا کوئی مسلمان ایسا کرسکتا ہے؟‘‘
اب ملعون وسیم رضوی بتائے کہ جب ابن عمر کہتے ہیں کہ افسوس افسوس کیا کوئی مسلمان ایسا کر سکتا ہے؟ تو اس کو حلال کیسے کہہ سکتے ہیں۔
علامہ جلال الدین سیوطی الدرالمنثور میں بیہقی کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ الدرالمنثور جلد1، صفحہ ۶۳۴
’’عن ابن مسعود قال قال النبی صلے اللہ علیہ وسلم محاشّ النساء علیکم حرام‘‘
ترجمہ: ’’ابن مسعود سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عورتوں کی دبر تمہارے لئے حرام ہے۔‘‘
جھوٹا ملعون وسیم رضوی کیسے کہتا ہے کہ رسول نے مقعد میں ہمبستری کی اجازت دی۔
تفسیر الدرالمنثور، جلد اول، صفحہ ۶۳۴
’’اخرج البیہقی عن قتادہ فی الذی یاتی امراتہ فی دبرھا قال حدثنی عقبہ بن و شاح ان ابا الدرداء قال لایفعل ذلک الاکافر۔‘‘
ترجمہ: ’’اس کو استخراج کیا ہے بیہقی نے قتادہ سے کہ جو مرد اپنی بیوی کے پیچھے سے آئے تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے حدیث بیان کی عقبہ بن و شاح نے کہ ابودرداء نے کہا کہ ایسا کام کافر کے سوا کون کرسکتا ہے۔‘‘
ترمذی جلد اول، صفحہ ۵۹۷، ابواب الرضاع، حدیث نمبر ۱۱۶۴
’’حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَسَا أَحَدُکُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَائَ فِي أَعْجَازِهِنَّ۔‘‘
ترجمہ:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو تو وضو کرے اور عورتوں سے اس کی دبر میں جماع نہ کرے۔‘‘
ترمذی، جلد اول، صفحہ ۵۹۷، ابواب الرضاع، حدیث نمبر ۱۱۶۵
’’حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَی رَجُلٍ أَتَی رَجُلًا أَوْ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ ‘‘
ترجمہ: ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص کی طرف اللہ نظر رحمت نہیں فرماتاجو کسی مرد یا عورت سے غیر فطری عمل کرے۔‘‘
محترم قارئین! اب آپ انصاف سے بتائیں کہ اغلام بازی کے بارے میں اسلام کا کیا موقف ہے؟ یہ ثابت ہوگیا کہ اسلام میں، قرآن میں، حدیث میں اغلام بازی کو سخت حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس کی مذمت کی گئی ہے۔ امید ہے کہ یہ تمام حوالے ملعون وسیم رضوی کے دماغ میں گھس گئے ہوں گے اور وہ سمجھ گیا ہوگا کہ اسلام میں اغلام بازی حلال نہیں ہے۔
ملعون وسیم رضوی کو منودھرم شاشتر کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے تھا۔
منودھرم شاشتر، باب ۱۱، شلوک ۱۷۴ میں ہے کہ
’’کسی جانور یا عورت کے ساتھ اغلام بازی کرنے سے، پانی کے اندر مباشرت کرنے سے، یا حیض والی عورت سے مباشرت کرنے سے، سنتاپن کرچھر کرنا ہوگا۔‘‘
(یعنی سنتاپن کرچھر کرنے سے یہ گناہ کا کفارہ ہو جائے گا’’مصنف آسیؔ‘‘)
آئیے! سنتا پن کرچھر کسے کہتے ہیں اس کو سمجھتے ہے۔