اعلان نبوت

اعلان نبوت
جب آپ کی عمر چالیس سال کی ہوگئی آپ کی ذات میں انقلاب آگیا خلوت نشین ہوگئے۔ غار حرا میں کئی دنوں کا کھانا پانی ساتھ لے جاتے اور عبادت میں مصروف رہتے۔ غار حرا میں سورہ اقرا، نازل ہوئی اعلان نبوت فرمانے کے بعد، تین برس تک راز داری کے ساتھ تبلیغ فرماتے رہے۔ اسی دوران عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، مردوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لڑکوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے۔ تین برس کے بعد سورہ شعرا ء،کی آیت نازل ہوئی جس میں اللہ کا حکم ہوا اپنےگھر والوں کو خدا سے ڈرا یئے، ایک دن کوہ صفا پر چڑھ کر قریش کو اکٹھا کیا اور کہا کہ تم کوعذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں۔ ایک خدا پر ایمان لائو۔ ان میں آپ کا چچا ابولہب، بھی تھا سب سخت ناراض ہو کر چلے گئے اور اول فول بکنے لگے۔
آخر کار آپ نے علی الاعلان نبوت کا اعلان فرمایا اور تبلیغ شروع کردی۔ پورا عرب آپ کی مخالفت میں کمر بستہ ہوگیا۔ آپ پر ظلم و ستم کا ایک طوفانی سلسلہ شروع ہوگیا۔کفار قریش آپ کے جانی دشمن ہوگئے، کاہن، جادوگر، مجنون ہونے کا پروپیگنڈہ کرنے لگے۔ دوران نماز عقبہ بن ابی معیط نے چادر کا پھندہ، ڈال کر زور سے کھینچا کہ آپ کا دم گھٹنے لگا، حضرت ابوبکر نے اس بد بخت کو دھکا دے کر دور کیا۔