اصلاح معاشرہ 

اصلاح معاشرہ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَ سَیّدِنَا وَ مَولٰنامُحَمَّداً
صلیَّ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَسَلّم عَلَی الْعٰلمِینَ
جَمِیْعاً اَقَامَہ یَوم القَیَامَۃِ لِلمُذْنَبِیْنَ المتلوبین
الخطاِّبِینَ الْھَالِکِیْنَ شَفِیْعاً امَّابَعَدُ فَقَدْ قَالَ
اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید اعوذ باللّٰہ من
الشیطان الرجیم مِنَ النَّاس مَنْ یَشْتَریْ لَھْوَ
الْحَدِیْثِ لِیْضِلُّ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِ بِغَیْر عِلْمِ وَّ
یَتَّخِدھَا ھُزُوَا اُوٰلٰئِک لَھُمْ عَذَاب مُّھِین
صدق اللہ العظیم و بلغنا رسولہ الکریم
معزز حاضرین مجلس  السلام علیکم رحمۃ اللہ برکاتہ
              دن ہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
               شرم نبی خوف خد  ا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
                                        رزق خد ا  کھایا کیا  فرمان حق شاہد کیا
                                        شکر کرم ترس سزا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
             علم و عمل  کی یہ کوتاہی  قلب و نظر کی یہ گمراہی
             آج کا انسان توبہ توبہ کتنا ہے انجام سے غافل
چمنستان رضویت کے مہکتے پھولو، شمع رسالت کے پروانوا، حیدر کرار کے شیدائیو، غوث اعظم کے عقیدت مندو ، غریب نواز کے فدائیو، مرکز اہلسنت فاضل بریلوی کے متوالو آئیے سب سے پہلے سبز گنبد میں آرام فرمانے والے آقاسید الثقلین،نبی الحرمین ، امام القبلتین ، سید ابرار و اخیار شہنشاہ ذی وقار کائنات کے اولین فصل ، رہبر اعظم ، قائد اعظم ، منیر اعظم ، سیاح لامکاں مالک انس وجن ، حبیب پروردگار ، جناب احمد مجتبی محمد مصطفی کے دربار عالی شان میں نہایت ہی عقیدت و محبت کے ساتھ اپنی غلامی کا ثبوت دیتے ہوئے درود شریف کا نذرانہ پیش فرمانے کی سعادت حاصل کریں ۔ {اللھم صلی علیٰ سیدنا و مولٰنا محمدٍبارک وسلم صلاۃً وسلاماً علیک یا سیدی یارسول اللہ }
  ہر مقرر ہر واعظ خطبہ مسنونہ کے بعد کسی نہ کسی آیت کریمہ یا حدیث پاک کو اپنا عنون سخن بنایا کرتا ہے اسی قانون اور ضابطہ کے تحت میں بھی قرآن کریم کی ایک آیت مقدسہ کی تلاوت کرنے کا شرف حاصل کیا ۔ جس کا آسان سا ترجمہ یہ ہے ۔ اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنا لیں ان کیلئے ذلت کا عذاب ہے ۔ برادران اسلام قرآن نے واضع لفظوں میں فرمایا قرآن نے صاف صا ف کہہ دیا کہ کچھ لوگ ہیں جو کھیل کی باتیں خریدتے ہیں جو اللہ کی راہ سے بہکا دیں ۔ آج ہم اپنے معاشرے کا جا ئزہ لیں آج ہم اپنے سماج کے حالات کو دیکھیں آج ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں ، آج ہم اپنے گھر کے ماحول کو دیکھیں ، آج ہم اپنی سوسائٹی کا جائزہ لیں ، تو اندازہ ہوگا کہ ہم گناہوں کے دلدل میں پھنستے جارہے ہیں ۔ آج ہر گھر میں کھیل کی باتیں ہو رہی ہیں ہزاروں روپیہ خرچ کرکے ٹی وی کی شکل میں رکھ رہے ہیں ، آج ہر گھر میں کھیل کی باتیں وی سی آر کی شکل میں لا رہے ہیں ۔ ہمارے پاس نماز کے لئے وقت نہیں لیکن ٹی وی دیکھنے کے لئے وقت ہے ۔ ہمارے پاس مسجد میں جانے کے لئے وقت نہیں مگر ٹی وی دیکھنے کے لئے وقت ہے ۔ ہمارے پاس دینی مجلس میں جانے کے لئے وقت نہیں مگر ٹی وی اور وی سی آر دیکھنے کے لئے وقت ہے ۔ آج ہمارے پاس نیک کام کرنے کے لئے وقت نہیں مگر کرکٹ میچ کھلنے کے لئے وقت ہے ۔ آج ہمارے پاس قرآن کی تلاوت کرنے کے لئے وقت نہیں مگر کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے وقت ہے ۔ آج ہمارے پاس حدیث پڑھنے کیلئے وقت نہیں مگر گھنٹوں موبائیل پر بات کرنے کے لئے وقت ہے ۔ آج ہمارے پاس تبلید کے لئے وقت نہیں لیکن دنیاوی لہو ولعب کیلئے وقت ہے ۔
دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرم نبی خوف  خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں