اسلام نے مقام ِ عورت کو بلند کیا
بانی اسلام جناب محمد رسول صلی اللہ علیہ و سلم جب اس دنیا میں تشریف لائے آپ کی بدولت عورتوں کو اپنا کھویا ہوامقام مل گیا ۔ سرکا ر مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ۔ لوگوں کو بتادیا کہ لڑکیا ں اس لئے پیدا نہیں کی جاتیں کہ تم ان کو زندہ درگور کردو بلکہ اس لئے پیدا کی جاتی ہیںکہ وہ تمہاری ماں بن سکے ، وہ تمہاری بہن بن سکے ، وہ تمہاری بیٹی بن سکے ، وہ تمہاری بہو بن سکے۔ وہ تمہارے گھر کی زینت بن سکے ، وہ تمہارے گھر کی رونق بن سکے ۔ لوگوں کو بتادیا کہ بیوہ عورت کو معاشرے میں جینے کا پورا حق ہے ، آپ نے لوگوں کو صرف بتایا ہی نہیں بلکہ پچیس سال کی عمر میں ایک چالیس سالہ بیوہ عورت سے شادی کرکے بیوہ عورت کے مقام کو بامِ عروج تک پہونچا کر دیکھا یا۔
بانی اسلام نے لوگوں کو سبق دیا کہ عورتوں پر ظلم نہ ڈھاؤ وہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے ، قلب و جگر کا سرور ہے اس کو نگاہ عزت سے دیکھو کیوں کہ وہ تمہارے گھر کی ملکہ ہے ۔ عورتوں کو باپ کے ترکہ سے حصہ دو کیوں کہ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے۔ {للذکر مثلُ حظ الانثتین} عورتوں کا حصہ مرد کا آدھا ہے۔
بانی اسلام نے لوگوں کو درس دیا کہ عورتوں کو منحوس تصور نہ کرو وہ گھر کی رونق اور برکت ہے ۔ بانی اسلام نے لوگوں کو بتایا کہ جو عورتوں کے حقوق تم پر واجب ہیں ان کو ادا کرو۔ بانی اسلام نے بتایا کہ عورتوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک نہ کرو ورنہ آنے والی نسل تم کو کبھی معاف نہ کرے گی ۔ لفظ عورت کو گالی تصور نہ کرو ۔ لفظ عورت تو عزت و ابرو کے مخزن کا نام ہے ۔
اسلام دنیا میں پھلنے کے بعد عورتوں کا مقام بام عروج میں پہونچ گیا عورتوں کو لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگے ۔ وہ انسان جو اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے اب ان کو آنکھوں پر بٹھانے لگے معاشرے میں عورتوں کو اپنے حقوق مل گئے ۔ بیوہ عورتوں کو بھی جینے کا کنارہ مل گیا ، انسانی زندگی کے ہر ہر گوشے میں عورتوں کو ان کے حقوق دئیے گئے جو اس کو حاصل نہ تھا ۔ وہ انسان جو عورتوں کو جانور سمجھتے تھے اب گھر کی ملکہ سمجھنے لگے
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے جو مقام عورت کو دیا ہے ، جو بلندی عورت کو دیا ہے ، جو عزت عورت کو دیا ہے جو رفعت عورت کو دیا ہے جو حقوق عورت کو دیا ہے نہ آج تک کوئی مذہب دے سکا ہے نہ قیامت تک دے سکتا ہے ۔
Post Views: 51