اسلام ضابطہ حیات ہے
اسلام کا چشم انصاف سے مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا اسلام ہر چیزکا درس دیتا ہے اسلام زندگی گذارنے کا طریقہ بتاتا ہے ۔ اس ترقی یافتہ دور میں لوگ بزنس کے نئے نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں ۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرکے بزنس کو ترقی دیتے ہیں ۔ تجارت کو ترقی دیتے ہیں ۔ اچھے مال کی قیمت لیتے ہیں اور خراب مال دیتے ہیں اس کو ہوشیاری اور چالاکی کا نام دیتے ہیں۔ تجارت اور بزنس میں سوطرح کے جھوٹ بولتے ہیں اور اس کوپالیسی کا نام دیتے ہیں ۔
برادران اسلام بانی اسلام محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم نے خود بزنس کیا ، تجارت کی اور لوگوں کو تجارت کرنے کا حکم دیا ۔ لیکن اس طرح صاف ستھرا تجارت کیا اور لوگوں کو صاف ستھرا تجارت کرنے کا حکم دیا جس کو دنیا فراموش نہیں کرسکتی ۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جس طرح کا مال تمہارے پاس ہو اسی طرح ظاہر کرو اور اسی طرح قیمت لو اپنے کاروبار اپنی تجارت کو جھوٹ کی بنیاد پر فروغ نہ دو ، اپنے ہو یا غیر ہر ایک کے سامنے اپنے مال کی اصلیت ظاہر کردو تاکہ مال خریدنے والا بعد میں تم کو دغا باز نہ کہہ سکے ، جھوٹا نہ کہہ سکے ،سچائی کی بنیاد پر اپنی تجارت کو آگے بڑھاؤ ۔یہ تمہاری تجارت بھی ہو جائے گی اور عبادت بھی۔
Post Views: 25