اسلامی جہاد اور ہندو دھرم یدھ

اسلامی جہاد اور ہندو دھرم یدھ
ڈاکٹر محمد احمد نعیمی صاحب اپنی کتاب ’’اسلام اور ہندودھرم کا تقابلی مطالعہ جلد اول صفحہ نمبر ۸۰۳ میں لکھتے ہیں،
جہاں تک اسلامی جہاد اور ہندو دھرم یدھ کی اہمیت و فضلیت کا مسئلہ ہے اسلام اور قدیم ہندو دھرم کے مابین قدرے مشابہت نظر آتی ہے لیکن میدان جنگ میں دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک اور وسعت قلبی کا مظاہرہ کرنے کے لحاظ سے کافی فرق پایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ اسلامی نقطہ نظر سے جنگ و جہاد کا مقصد دشمن قوم کو ہلاک و برباد کرنا نہیں بلکہ صرف ظلم و ستم اور فتنہ و فساد سے انسانی دنیا کو محفوظ و مامون کرنا ہے۔ اس لئے اسلام کا حکم ہے کہ دشمنوں پر صرف اتنی ہی طاقت کا استعمال کرنا چاہئے کہ جس سے ظلم و ستم اور فتنہ وفساد کا خاتمہ ہو جائے جب کہ اس کے بر عکس ہندودھرم کا نظریہ یہ ہے کہ دشمن کو کسی طرح کا موقع نہیں دینا چاہئے۔ زیادہ سے زیادہ طاقت استعمال کرکے اس کو مکمل طور سے تباہ و برباد کر دینا چاہئے۔ اسلامی جنگ و جہاد کے نظریئے کے مطابق ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم ہے جو دشمن یا کافر مسلمانوں کو قتل کرے تو مسلمان بھی اس کو قتل کریں یعنی جتنی زیادتی انہوں نے کی ہے تم بھی اس کے ساتھ اتنی ہی زیادتی کرو اس سے ہرگز آگے نہ بڑھو کیوں کہ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے۔
جس نے تم پر زیادتی کی تم اس پر اس کے مثل زیادتی کرو۔ (سورہ بقرہ آیت ۱۹۴)
بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (سورہ بقرہ آیت ۱۹۰)
بے شک اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ شوری آیت ۴۰)
بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورہ قصص، آیت ۸۷)
لیکن قدیم ہندو دھرم یا ویدوں میں یہ شرط اور حکم نہیں ہے کہ ویدوں کے ماننے والے یا ہندوئوں کو کوئی قتل کرے تو ویدک دھرم یا قدیم ہندو دھرم والے صرف اس کو قتل کریں اور اس سے زیادہ ظلم نہ کریں بلکہ قدیم ہندو دھرم گرنتھ یا ویدوں کا حکم یہ ہے کہ ’’محض دھرم کا مخالف دشمن ہو‘‘ قتل کرے یا نہ کرے، تکلیف دے یا نہ دے اس کی گردن مار دو اور مختلف قسم کی سخت سے سخت سزائے موت اس پر جاری کرو جیسا کہ مذکورہ بالا اشلوکوں میں آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ ویدوں کے مندرجہ بالا منتروں میں دشمنوں اور مخالفوں کے ساتھ انتہائی بے رحمی کا سلوک کرنے کی تعلیم دی گئی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ جو قدیم ہندو دھرم یا ویدک دھرم کو نہیں مانتے یا اس کے پیروکاروں سے دشمنی رکھتے ہیں ان کے لئے وید کا حکم یہ ہے کہ ان کو قتل کر ڈالیں، آگ میں جلا ڈالیں، شیر کے منہ میں ڈال دیں، ان کے کھیت کھلیان اور بستیوں کو تباہ و برباد کر دیں اور ان کو درخت کی طرح مکمل طور سے کاٹ ڈالیں۔ ان منتروں میں قابل غور بات یہ ہے کہ محض دشمنی اور نفرت کے باعث انتہائی خطرناک موت کی سزا اور وہ بھی شیر، خونخوار جانور کے منہ میں ڈالنے کی بات کہی گئی ہے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ جو ہم سے دشمنی کرے اس کو بھی مذکورہ حیرت ناک سزائیں دیں اور جس سے ہم دشمنی و نفرت کریں اس کو بھی یہی سزائیں دیں۔ عجیب انصاف ہے؟ کہ جس سے آپ دشمنی یا نفرت رکھیں اس کو یہ سزائیں کس جرم کے عوض تجویز کی گئی ہیں؟
مختصر یہ ہے کہ قدیم ہندو دھرم گرنتھوں نے دشمنوں اور مخالفوں کے تعلق سے جس سختی، بے باکی اور بے رحمی کا سلوک کرنے کی تعلیمات دی ہیں، اسلام نے ایسی کہیں کوئی تعلیم نہیں دی کہ جو مسلمان نہ ہو یا مسلمان سے دشمنی کرے یا مسلمان اس سے دشمنی کریں یا کوئی بدکردار، بدچلن ہو، ظالم ہو تو اس کو قتل کر و یا شیر اور خونخوار جانور کے منہ میں ڈال دو یا جلا کر راکھ کردو یا درخت کی طرح کاٹ ڈالو۔ بلکہ ارشاد خداوندی ہے:
دین کے معاملے میں کوئی سختی نہیں۔ (سورہ بقرہ آیت ۲۵۶ )
طبرانی جلد دوم، صفحہ ۶۵ پر ہے۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’الخلق کلہ عیال اللہ فاحبھم الی اللہ انفعھم لعیالہ‘‘
ترجمہ: ’’تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور تمام مخلوق میں اللہ کا سب سے پیارا وہ ہے جو اس کے کنبے کو زیادہ فائدہ پہنچائے۔‘‘
مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم صفحہ ۴۲۳
الراحمون یرحمھم الرحمن ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء
ترجمہ: ’’رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پررحم کرو، تو آسمان والا تم لوگوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘
قرآن و حدیث کی یہ عبارتیں اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ دین و مذہب کے معاملے میں کسی پر کوئی زیادتی نہیں کرنی چاہئے اور اللہ کی مخلوق دشمن ہو یا دوست جہاں تک ممکن ہو مہربانی اور نرمی سے پیش آنا چاہئے، یہی اللہ کو پسند ہے۔ البتہ اگر نرمی اور مہربانی سے مسئلہ کا حل نہ ہوتا ہو تو پھر اتنی تکلیف و سزا دو جتنی تمہیں پہنچائی گئی ہو۔ ارشاد خداوندی ہے۔
’’اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی تھی۔‘‘ (سورہ نحل آیت ۱۲۶)
دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے۔
’’جان کے بدلے جان، اور آنکھ کے بدلے آنکھ، اور ناک کے بدلے ناک، اور کان کے بدلے کان، اور دانت کے بدلے دانت اورزخموں میں بدلہ ہے۔‘‘ (سورہ مائدہ آیت ۴۵)
یعنی ظلم و زیادتی کے حساب سے ہی بدلہ وانتقام لیا جائے گا۔ یہی اسلام کا عدل و انصاف ہے اس طرح دشمنوں اور مخالفوں کے ساتھ سلوک کے معاملے میں اسلام اور قدیم ہندو دھرم کے درمیان جو فرق ہے وہ بخوبی ظاہر ہے۔
OOOOO