’’اب جھوٹ سے پردہ اُٹھتا ہے‘‘
قارئین! پچھلے صفحات میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح جھوٹوں کے سردار ملعون وسیم رضوی نے جھوٹی اور من گھڑت باتیں اسلام، مسلمان اور حضور اقدس ﷺ کی طرف منسوب کر دی ہیں۔ اب میں ان جھوٹی باتوں سے پردہ اُٹھاتا ہوں۔ جہاں اس نے حدیث کا حوالہ دیا آپ ملاحظہ کریں گے کہ کس طرح اس نے حدیث میں خیانت کی ہے اور اپنی طرف سے گھٹایا اور بڑھایاہے۔ پہلے اس کی لکھی ہوئی حدیث پھر اصل حدیث اس کے بعد اس کی وضاحت اور محاسبہ پیش کروں گا تاکہ جھوٹ سے پردہ اُٹھ جائے، اب ملاحظہ کریں۔
آسمان و زمین کا فرق
ملعون وسیم رضوی اپنی کتاب کے صفحہ ۶۳؍ پر صحیح بخاری جلد ۷، باب نمبر ۶۲، حدیث نمبر ۱۴۴ کے حوالے سے لکھتا ہے :
’’عائشہ نے کہا جس وقت اللہ نے رسول کو اُٹھایا ان کا سر میری گردن کے پاس تھا، وہ مجھے چوم رہے تھے، ان کا تھوک میرے تھوک سے مل رہا تھا، ان کی موت کے لئے میں خود کو ذمہ دار مانتی ہوں، اس وقت میری جوانی تھی، میں نادان تھی، میں نبی کو پُر جوش کرنا چاہتی تھی اور کھیل میں ان کا تعاون کرنا چاہتی تھی لیکن نا تجربہ کاری کی بنیاد پر مجھے معلوم نہیں تھا کہ جب کوئی بوڑھا اور بیمار آدمی کسی ایک جوان عورت کے ساتھ متعدد بار کرتا ہے تو اس کے کیا برے اثرات ہو سکتے ہیں، ورنہ میں ان کو روک دیتی۔ میں نے اسے جنسی خواہش کے پر لطف لمحات پر ان کو روکنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں دیکھتی رہی وہ میرے سینے پر لڑھک گئے۔ عائشہ نے کہا کہ وصال کے وقت نبی نے کلمہ نہیں پڑھا تھا کیوں کہ اس وقت ان کی زبان میرے منہ میں تھی۔‘‘
ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ خود اس کے حوالے سے ملاحظہ کیجئے۔
وہ اپنی کتاب کے صفحہ ۱۳۴؍ پر اسی حوالے سے لکھتا ہے: وہی صحیح بخاری، وہی جلد نمبر۷، وہی باب نمبر ۶۲، وہی حدیث نمبر ۱۴۴ لیکن حدیث بدل گئی وہ لکھتا ہے:
’’عائشہ نے کہا اس دن رسول کے ساتھ سونے کی میری باری تھی، رسول میرے ساتھ تھے، لیکن اللہ نے انہیں اُٹھا لیا۔ مرتے وقت ان کا سر میری دونوں چھاتیوں کے درمیان تھا، ان کا تھوک میرے تھوک سے مل کر میری گردن سے بہہ رہا تھا۔‘‘
دونوں حدیث میں آسمان زمین کا فرق ہے لیکن ملعون وسیم رضوی کے حوالے کے مطابق دونوں حدیث ایک ہی ہیں جو کہ غلط بات ہے۔ اب دونوں حدیث کا فرق ملاحظہ کیجئے۔
پہلی حدیث میں ہے کہ ان کا سر میری گردن کے پاس تھا۔جب کہ دوسری حدیث میں لکھتا ہے ان کا سر میرے دونوں چھاتیوں کے درمیان تھا۔ ؕپہلی حدیث میں لکھ رہا ہے ان کا تھوک میرے تھوک سے مل رہا تھا۔ دوسری حدیث میں لکھتا ہے ان کا تھوک میرے تھوک سے مل کر گردن سے بہہ رہا تھا۔
یہ ساری باتیں صحیح بخاری کی حدیث میں اپنی طرف سے جوڑ دی ہیں۔ اب میں آپ کے سامنے صحیح بخاری کی وہ اصل حدیث عربی عبارت اور ترجمہ کے ساتھ پیش کرتا ہوں ملاحظہ فرمائیں:
صحیح بخاری جلد دوم، کتاب المغازی، صفحہ ۷۰۰، حدیث ۱۵۷۱
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَکْوَانَ مَوْلَی عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ کَانَتْ تَقُولُ إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَأَنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبِيَدِهِ السِّوَاکُ وَأَنَا مُسْنِدَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاکَ فَقُلْتُ آخُذُهُ لَکَ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ فَتَنَاوَلْتُهُ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَقُلْتُ أُلَيِّنُهُ لَکَ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ فَلَيَّنْتُهُ فَأَمَرَّهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَکْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ يَشُکُّ عُمَرُ فِيهَا مَائٌ فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَائِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٍ ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَی حَتَّی قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ
’’ترجمہ: ابوعمرو ذکوان، (حضرت عائشہ کے آزاد کردہ غلام) نے ابن ابی ملیکہ کو خبر دی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے مجھ پر انعامات سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال میرے گھر میں میری باری کے دن اور اس حالت میں ہوا کہ آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں آپ کے وصال سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے اور آپ کے لعاب دہن کو ملا دیا ہوا یوں کہ حضرت عبدالرحمن میرے پاس آئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور میں رسول اللہ ﷺ کو ٹیک دیئے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں تو میں نے جان لیا کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں۔ میں عرض گزار ہوئی کہ کیا میں اسے آپ کے لئے لے لوں؟ آپ نے سر مبارک سے ہاں کا اشارہ فرمایا، میں نے مسواک لی تو سخت معلوم ہوئی، پھر میں عرض گزار ہوئی کہ کیا میں اسے آپ کے لئے نرم کردوں؟ آپ نے اثبات میں سر مبارک سے اشارہ فرمایا۔ پس میں نے اسے چبا کر نرم کر دیا اور آپ کے سامنے پانی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا، آپ اپنا دست مبارک پانی میں ڈال کر اسے اپنے چہرے پر پھیر لیتے تھے اور فرماتے لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات بے شک موت تکلیف سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اوپر اُٹھایا اور کہنے لگے فی الرفیق الاعلیٰ یہاں تک کہ آپ نے وصال فرمایا اور آپ کا دست مبارک نیچے آگیا۔‘‘
دوسری حدیث ملاحظہ فرمائیں:
صحیح البخاری جلد دوم، صفحہ ۷۰۰، کتاب المغازی حدیث نمبر ۱۵۷۲
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ يَقُولُ أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَکُونُ حَيْثُ شَائَ فَکَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّی مَاتَ عِنْدَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي کَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِيهِ فِي بَيْتِي فَقَبَضَهُ اللَّهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي ثُمَّ قَالَتْ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ وَمَعَهُ سِوَاکٌ يَسْتَنُّ بِهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاکَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْطَانِيهِ فَقَضِمْتُهُ ثُمَّ مَضَغْتُهُ فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنَّ بِهِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَی صَدْرِي۔
’’ترجمہ: ہشام بن عروہ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے مرض وصال میں فرمایا کرتے تھے، کل میں کس گھر میں ہوں گا؟ میں کل کس کے پاس ہوں گا؟ حضور اقدس ﷺ حضرت عائشہ کی باری کا انتظار فرماتے تھے تو آپ کی ازواج مطہرات نے اجازت دے دی، آپ جس کے پاس چاہیں رہیں۔ آپ وصال تک حضرت عائشہ کے گھر رہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں: جس روز آپ کا وصال ہوا ویسے بھی وہ میری ہی باری کا دن تھا تو آپ کا سر مبارک میرے گلے اور سینے سے لگا ہوا تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کے اور میرے لعاب دہن کو ایک جگہ ملا دیا، وہ اس طرح کہ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر آئے اور ان کے پاس مسواک تھی، رسول خدا ﷺ اس کی طرف دیکھنے لگے تو میں نےکہا اے عبدالرحمن! یہ مسواک مجھے دے دو، انہوں نے مجھے دے دی تو میں نے چبا کر نرم کرکے رسول خدا ﷺ کو دے دی۔ آپ نے مسواک کی، آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔‘‘
ان دونوں حدیثوں کے علاوہ اور بھی کئی احادیث صحیح بخاری میں حضور کے وصال کے تعلق سے موجود ہیں لیکن کسی بھی حدیث میں وہ واہیات اور بکواس نہیں جو ملعون وسیم رضوی نے کی ہے اور اپنی طرف سے من مانی باتیں اس میں شامل کر دی ہیں۔ صاف ستھرے اور اچھے واقعات کو بھی جنسیات اور سیکس کا مرچ مسالہ لگا کر پیش کرنے میں ملعون وسیم کی مہارت سے ایسا لگتا ہے جیسے اس نے سیکس کا کورس کیا ہو۔ ایک بہترین اور صاف ستھری حدیث میں وہ کس طرح سیکس آمیز الفاظ اپنی طرف سے ملاتا ہے اس کو ملاحظہ کریں۔ شاید ایسا جھوٹا قیامت تک پیدا نہ ہو۔ اس کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں جو حدیث میں شامل کئے گئے ہیں۔
’’وہ مجھے چوم رہے تھے۔‘‘
’’اس وقت میری جوانی تھی۔‘‘
’’میں نبی کو پُر جوش کرنا چاہتی تھی۔‘‘
’’کھیل میں ان کا تعاون کرنا چاہتی تھی۔‘‘
’’جب کوئی بوڑھا اور بیمار آدمی کسی ایک جوان عورت کے ساتھ متعدد بار کرتا ہے اس کے کیا برے اثرات ہوسکتے ہیں۔‘‘
’’میں نے اسے جنسی خواہش کے پُر لطف لمحات پر ان کو روکنا مناسب نہیں سمجھا۔‘‘
’’وصال کے وقت نبی نے کلمہ نہیں پڑھا۔‘‘
’’اس وقت ان کی زبان میرے منہ میں تھی۔‘‘
’’ان کا تھوک میرے تھوک سے مل کر میری گردن سے بہہ رہا تھا۔‘‘
’’ان کا سر میری دونوں چھاتیوں کے درمیان تھا۔‘‘
یہ ہیں وہ سب بکواس جن کا حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان میں سے کوئی جملہ حدیث پاک میں نہیں ہے۔ عربی کا متن جو میں نے حوالہ میں پیش کیا ہے اس کا ایک ایک لفظ پڑھئے، اس میں سے کوئی جملہ نہیں ملے گا۔ وہ لکھتا ہے
’’ ان کا سر میری دونوں چھاتیوں کے درمیان تھا۔‘‘
اس کے لئے حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔
بین سحری ونحری، ایک جگہ ہے مستند الی صدری، ایک جگہ ہے حاقتنی و ذاقتنی، پہلے جملہ کا معنی ہوتا ہے میرے گلے اور سینے کے درمیان، دوسرے جملہ کا معنی ہوتا ہے میرے سینےسے ٹیکا لگائے تھے۔ تیسرے جملہ کا معنی ہوتا ہے میری ہنسلی اور ٹھوڑی سے لگا ہوا تھا۔ اب ملعون وسیم رضوی بتائے کہ دونوں چھاتیوں کے درمیان کس لفظ کا ترجمہ ہے؟
چھاتی کو عربی میں ثدی کہتے ہیں اور دو چھاتیوں کو ثدیین کہتے ہیں۔ پوری حدیث کا ایک ایک لفظ دیکھئے، کہیں بھی آپ کو لفظ بین ثدیین نہیں ملے گا ملعون وسیم رضوی تو ہر بات کو سیکس کی طرف لیجانا چاہتا ہے، اسی لئے اس نے بین سحری و نحری کا ترجمہ میری دونوں چھاتیوں کے درمیان کر دیا۔ جھوٹا ملعون وسیم لکھتا ہے کہ
’’عائشہ نے کہا کہ وصال کے وقت نبی نے کلمہ نہیں پڑھا تھا۔‘‘
عربی متن کو ملاحظہ فرمائیں اس میں لکھا ہے
یقول لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات، آپ نے فرمایا، لا الہ الا اللہ بے شک موت تکالیف سے بھری ہوتی ہے۔ آپ خود بتائیں کہ اللہ کے نبی نے آخری وقت کلمہ پڑھا کہ نہیں؟ اگر کوئی یہ کہے کہ لا الہ اللہ کہا اور محمد رسول اللہ نہیں کہا تو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے رسول محمد تو وہ خود ہیں، انہیں محمد رسول اللہ کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس سے ثابت ہوگیا کہ ملعون وسیم رضوی کتنا بڑا جھوٹا ہے جو جھوٹی حدیث بیان کرکے رسول اللہ ﷺ کے مقام کو کم کرنا چاہتا ہے۔ اگر ملعون وسیم رضوی جیسے ہزاروں پیدا ہو جائیں تو میرے نبی کا مقام کم نہیں ہو گا۔
حضرت عائشہ کی طرف یہ جھوٹ منسوب کر کے لکھتا ہے کہ
’’ان کاتھوک میرے تھوک سے مل کر میری گردن سے بہہ رہا تھا۔‘‘
اس کی حقیقت جاننے کے لئے عربی کا متن ملاحظہ کیجئے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وخالط ریقہ وریقی۔ اب آپ بتائیں کہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ تھوک میری گردن سے بہہ رہا تھا۔ ملعون وسیم رضوی ثابت کرے، وہ کیا ثابت کرے گا!! اصل حدیث کا متن آپ کے سامنے میں نے رکھا خود انصاف کریں کہ کیا صحیح ہے کیا غلط۔
ملعون وسیم رضوی صحیح بخاری کی حدیث میں ایک جملہ اور گھسیڑتا ہے کہ آخری وقت ان کی زبان میرے منہ میں تھی، صحیح بخاری کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں۔
ثم نصب یدہ فجعل یقول فی الرفیق الاعلیٰ حتی قبض ومالت یدہ۔
’’پھر آپ نے ہاتھ اوپر اُٹھایا اور کہنے لگے فی الرفیق الاعلیٰ یہاں تک کہ آپ نے وصال فرمایا اور آپ کا دست مبارک نیچے آگیا۔ ‘‘
ملعون وسیم رضوی کا جھوٹ ثابت ہوگیا کہ حضور ﷺ کی زبان حضرت عائشہ کے منہ میں نہیں تھی کیوں کہ آپ اپنا ہاتھ اُٹھا کر اپنے رب کی بارگاہ میں کہہ رہے تھے فی الرفیق الاعلیٰ۔