آٹھویں ہجری کےحالات وواقعات

آٹھویں ہجری کےحالات وواقعات
۹؍تلواریں ٹوٹ گئیں
اسی سال ۸ھ؁ میں جنگ موتہ واقع ہوئی ۔ملک شام میں ایک جگہ کا نام موتہ ہے۔ اسی جگہ جنگ ہوئی کفر اور اسلام کا عظیم معرکہ ہوا ۔کفار کی جانب سے ایک لاکھ لشکر اور اسلام کی جانب سے صرف تین ہزار سپاہی تھے۔ مجاہدین مدینہ سے چل کر موتہ کی سرزمین میں داخل ہوگئے۔
لشکر کے سپہ سالار حضرت زید بن حارثہ تھے ان کی شہادت کے بعد حضرت جعفر طیار نے پرچم اُٹھا لیا۔ ان کی شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہ نے پرچم اسلام کو سنبھال لیا ۔ان کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولید نے پرچم سنبھالا، بڑی جاں بازی سے لڑتے ہوئے دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے ۹؍ تلواریں ان کے ہاتھ سے ٹوٹ گئیں ۔انہوں نے اپنی جنگی مہارت اور کمال ہنر مندی سے اسلامی فوج کو دشمنوں کے نرغے سے نکال لایا۔ بہت سے کفار کو قتل کیا کچھ مال غنیمت بھی حاصل ہوا ۔اور سلامتی کے ساتھ مدینہ واپس آگئے۔ جنگ موتہ کا منظر آپ نگاہ نبوت سے مدینہ منورہ ہی سے ملاحظہ فرما رہے تھے۔
جب حضرت یعلی بن امیہ جنگ موتہ کی خبر لے کر آپ کے پاس پہونچے تو آپ نے فرمایا ،تم مجھے وہاں کی خبر سنائوگے،یا میں سناؤں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ ہی سنایئے، جب پورا حال سنا چکے، تو حضرت یعلی نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، آپ نے ایک بات بھی نہیں چھوڑی جس کو میں بیان کروں۔