آسی سے پوچھا
ایک دفعہ ایک گریجویٹ عورت نے مجھ سے پوچھا ’’آسیؔ صاحب یہ بتایئے کہ اسلام عدل و انصاف کا درس دیتا ہے کہ نہیں ؟ میں نے کہابے شک دیتا ہے ‘‘ وہ بولی پھر باپ کے ترکہ سے لڑکیوں کا حصہ آدھا کیوں؟ میں نے کہا کہ اسلام کے ہر کام میں ہزار ہا حکمتیں ہیں ۔ باپ کے ترکہ سے جو حصہ لڑکیاں پاتی ہیں بالکل مناسب ہے کیوں کہ گھر کی ذمہ داری مرد پر ہے عورت پر نہیں ۔ لڑکیوں کا بار خرچ بچپن سے جوانی تک باپ برداشت کرتا ہے پھر شادی کے بعد شوہر برداشت کرتا ہے ۔ لہٰذا جو قرآن نے مقرر کردیا بالکل مناسب ہے ۔ وہ بولی لیکن انصاف اس وقت ہوتا جب دونوں کا برابر حصہ ہوتا ۔میں نے کہا مرد کیلئے کتنی بیویاں جائز ہے اس نے کہا چار میں نے کہا عورتیں کتنے شوہر رکھتی ہیں اس نے کہا ایک میں نے کہا چار کیوں نہیں رکھتی جب کہ مرد چار بیویاں رکھتے ہیں ۔ انصاف تو اسی وقت ہوتا جب عورتیں بھی چار مرد رکھتیں ۔ اتنا سننے کے بعد وہ گریجویٹ عورت لا جواب ہو گئیں اور مان گئیں کہ اسلام کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہے ۔
تہذیب فرنگی ہے تو نے سیکھا آسیؔ کے د ل کی تمنا یہی
ملا سے نفرت فاسق سے پیار صنف نازک ہوجانے سمجھدار
محترم حضرات ! اسلام کا کوئی کا حکمت سے خالی نہیں ہے چاہئیے ہماری سمجھ میں آئے یانہ آئے ۔ ہماری ماں اور بہنوں کو سوچنا چاہئیے کہ اسلام کے ہر حکم کے سامنے سر جھکا دے کیوں کہ اسلام ہی کی وجہ سے ان کو اتنا بلند مقام ملا اسلام کا شکرگذار ہونا چاہیئے ۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ عورتوں کو عقل سلیم عطا فرمائے اور اسلام کا ہر حکم ماننے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین
وماعلیناالاالبلغ
Post Views: 26