آخرت کی بھلائی پرہیزگاروں کے لیے
وَالْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ (پارہ۲۵، رکوع۹)
ترجمہ: اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
برادران اسلام متقی اور پرہیزگاروں میں جس کے دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا خوف ہو اس کو دنیا کی چاہت نہ ہو فرائض کی ادائیگی میں پابندی کرے ایسے لوگوں کی کامیابی دونوں جہاں میں ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بروز محشر اس کا اجر عطا فرمائے گا۔
پرہیزگار اور متقی ہمیشہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی یاد میں رہتے ہیں اپنے آپ کو یاد الٰہی سے غافل نہیں کرتے حضور سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عز و جل شانہ فرماتا ہے جب میرا بندہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں اور جب جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اسکی جماعت سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں جب وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دس بالشت قریب ہوتا ہے جب وہ ایک ہاتھ مجھ سے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی وسعت کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جب وہ میری طرف چل پڑتا ہے تو میری رحمت بڑھ کر اسے سایہ عاطفت میں لے لیتی ہے یعنی میں اس کی دعاؤں کو بہت جلد قبول فرما لیتا ہوں۔ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان کے لیے ذکر خدا سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں جو عذاب الٰہی سے نجات دینے والا ہو تو عرض کیا گیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ تو سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر یہ کہ تو اپنی تلوار سے جہاد کرے اور وہ ٹوٹ جائے (یعنی بار بار کے جہاد سے بھی افضل ہے)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مصطفی جان رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا ان لوگوں کی مثال جو اللہ عز و جل شانہ کو یاد کرتے ہیں زندوں کی سی ہے اور وہ لوگ جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو نہیں یاد کرتے مردوں کی طرح ہیں۔
پیارے دینی بھائیو! یاد الٰہی حقیقت یہ ہے کہ انسان کے دلوں کو زندہ کرتی ہے دل میں نور پیدا کرتی ہے اگر انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر نہ کرے تو دل مردہ ہو جاتا ہے جو اللہ کے پرہیزگار اور متقی ہوتے ہیں ان کے دل یاد الٰہی سے منور اور معمور ہوتے ہیں بلاشبہ متقی اور پرہیزگاروں کے لیے آخرت میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔